1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستانی مذہبی اسکالر آسٹریلیا سے واپس

آسٹریلیا کے دورے پر گئے ہوئے ایک پاکستانی مذہبی اسکالر کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔ تبلیغ پر گئے ہوئے اس اسکالر کی یہ واپسی ایک ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ہوئی ہے جس میں وہ سامعیت مخالف خطاب کر رہے ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق پاکستان ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا کے صدر عباس رانا کا کہنا تھا کہ کمیونٹی نے منتظمین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محمد رضا ثاقب مصطفائی کے باقی ماندہ پروگرام معطل کریں اور انہیں واپس پاکستان بھیجیں۔

رانا کے مطابق، ’’یہ دراصل 2012ء کی ایک ویڈیو سے متعلق ہے جس میں مصطفائی نے ایسی چیزیں کہی ہیں جنہیں ہم نظرانداز نہیں کر سکتے۔ آسٹریلیا ہمارا گھر ہے اور ہم یہاں امن ویگانگت سے ہی رہنا چاہتے ہیں۔‘‘

مصطفائی نے 2012ء کی ایک ویڈیو میں کہا تھا کہ دنیا کو درپیش تمام تر مسائل کی وجہ یہودی ہیں۔ فیس بُک پر قریب ایک ملین فینز رکھنے والے مصطفائی کا کہنا تھا، ’’جب آخری یہودی بھی مر جائے گا۔۔۔ ہم دنیا میں امن دیکھیں گے۔‘‘

Australien Muslime Moschee in Sydney (picture-alliance/dpa/M. Tsikas)

آسٹریلیا میں مصطفائی کے باقی ماندہ خطبات ختم کر دیے ہیں

آسٹریلوی شہر سڈنی کے مضافاتی علاقے بلیک ٹاؤن میں واقع غوثیہ مسجد سے تعلق رکھنے والے اور مصطفائی کے دورے کا انتظام کرنے والے امام حافظ رضا نے بھی اس ویڈیو کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کیا۔ عباس رانا کے مطابق، ’’امام رضا کو بھی یہ ویڈیو کو دیکھ کر صدمہ ہوا۔ وہ واضح طور پر نفرت انگیز بیانات کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے آسٹریلیا میں ان کے باقی ماندہ خطبات ختم کر دیے ہیں۔۔۔ تاکہ اس معاملے میں کوئی غلط فہمی نہ رہے۔‘‘

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے عباس رانا کا کہنا تھا، ’’مصطفائی کے مطابق وہ نفرت پر یقین نہیں کرتے اور ہمیشہ امن اور یگانگت کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے واپسی اختیار کر لی کہ وہ نہیں چاہتے کہ آسٹریلیا میں مقیم مسلم برادری کو ان کی وجہ سےکوئی مسئلہ ہو۔‘‘

آسٹریلیا میں پاکستانی ہائی کمشنر  نائلہ چوہان نے سڈنی کے ایک اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں پیش کیے گئے خیالات ناسمجھی پر مبنی ہیں اور پاکستان میں بھی انہیں مسترد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’اسلام تمام مذاہب کی عزت کرتا ہے۔‘‘