1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’پاکستانی مدر ٹریسا‘ ڈاکٹر رُوتھ فاؤ انتقال کر گئیں

پاکستانی مدر ٹریسا کہلا نے والی کوڑھیوں کی مسیحا جرمن ڈاکٹر مادام رُوتھ فاؤ شدید علالت کے بعد کراچی کے ایک نجی اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں  دار فانی سے کوچ کرگئیں ہیں۔

پاکستان میں ایک طویل عرصے سے کوڑھ کے مریضوں کا علاج کرنے والی ڈاکٹر روتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ نو ستمبر 1929ء کو جرمنی کے شہر لائپزگ میں پیدا ہوئیں۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ نے 1960ء میں پاکستان آکرمیکسیکو سے تعلق رکھنے والی سسٹر بیرنس کے ساتھ کوڑھ یعنی جذام کے مرض کے خاتمہ کے لیے کوششیں شروع کیں اور اپنی ساری زندگی پاکستان میں ہی گزار دی۔

مادام روتھ فاؤ نے آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں میری ایڈیلیڈ لیپروسی سنٹر قائم کیا اور اپنی تمام تر محبت ان مریضوں کو دی جنہیں ان کے اپنے بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ کوڑھ یا جذام کے مرض میں مریض کا جسم گلنے لگتا ہے اور ان زخموں سے شدید بدبو آتی ہے۔

جس زمانے میں پاکستان میں کوڑھ کے مریضوں کو شہر سے باہر منتقل کر دیاجاتا تھا اور ان کے اپنے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیتے تھے ایسے میں ڈاکٹر روتھ فاؤ اپنے ہاتھوں سے ان کوڑھیوں کو دوا بھی کھلاتیں اور ان کی مرہم پٹی بھی کرتی تھیں۔ کراچی میں انہوں نے سسٹر بیرنس کے ساتھ میکلو روڈ پر ڈسپنسری سے کوڑھ کے مریضوں کی خدمت شروع کی۔ جس کے کچھ عرصے بعد انہوں نے میری ایڈیلیڈ لپروسی سنٹر کی بنیاد رکھی۔ یہ سنٹر 1965ء تک اسپتال کی شکل اختیار کر گیا۔

ڈاکٹر روتھ پاکستان میں جذام کے علاج کے سنٹر بناتی چلی گئی یہاں تک کہ ان سینٹر کی تعداد 170 تک پہنچ گئی۔ یہ سنٹرز اب تک ہزاروں مریضوں کی زندگیاں بچا چکے ہیں۔

ڈاکٹر رُتھ فاؤ کی کوششوں سے پاکستان سے جذام کا خاتمہ ہو گیا اور عالمی ادارہ صحت نے 1996ء میں پاکستان کوجذام پر قابو پانے والا ملک قرار دے دیا۔ پاکستان ایشیاء کا پہلا ملک تھا جس میں جذام پر قابو پایا گیا۔ حکومت پاکستان نے 1979ء میں ڈاکٹر روتھ فاؤ کو جذام کے خاتمے کے لیے وفاقی مشیر بنایا۔ 1988ء میں ڈاکٹر فاؤکو پاکستان کی شہریت دے دی گئی۔

Ruth Pfau Deutsche Ärztin bekämpft Lepra in Pakistan (picture-alliance/dpa/J.H. Meyer)

ڈاکٹر روتھ فاؤ کے قائم کردہ جذام کے علاج کے سنٹرز اب تک پاکستان میں ہزاروں مریضوں کی زندگیاں بچا چکے ہیں۔

ڈاکٹر فاؤ کو ان کی گراں قدر خدمات پر پاکستانی حکومت کی جانب سے انہیں ہلال پاکستان، ستارہ قائداعظم، ہلال امتیاز، جناح ایوارڈ اور نشان قائداعظم سے بھی نوازا گیا۔ جبکہ جرمن حکومت نے انہیں بیم بی ایوارڈ اور آغا خان یونیورسٹی نے روتھ فاؤ کو ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ بھی دیا۔ پاکستان کی مدر ٹریسا کہلانے والی ڈاکٹر رُوتھ فاؤ کو علالت کے باعث  پانچ روز قبل آغا خان اسپتال میں داخل  کرایا گیا تھا جہاں وہ نو اگست کی شب انتقال کرگئیں۔ ان کی کی آخری رسومات 19 اگست کو سینٹ پیڑک  چرچ کراچی میں ادا کی جائیں گی۔ جس کے بعد انہیں کراچی ہی کے گورا قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

پاکستانی صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ڈاکٹر روتھ فاؤ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

DW.COM