1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی قبائلی علاقے میں 24 گھنٹوں میں دوسرا ڈرون حملہ

پاکستانی قبائلی علاقے میں ایک مبینہ امریکی ڈرون حملے میں کم از کم پانچ مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ افغان سرحد سے پاکستانی قبائلی علاقے میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران یہ دوسرا ڈرون حملہ تھا۔

default

پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ ڈرون طیارے نے شمالی وزیرستان کے اسپالگا نامی ایک گاؤں پر میزائل فائر کیے۔ یہ علاقہ القاعدہ اور اس کے حامی گروپس کا مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق بغیر پائلٹ کے جہاز کا نشانہ میران شاہ سے 12میل جنوب کی جانب پہاڑی علاقے میں واقع اس گاؤں میں قائم دہشت گردوں کا ایک مرکز تھا۔ دیگر ذرائع نے بھی اس حملے کی تصدیق کر تے ہوئے بتایا ہے کہ ڈرون طیارے سے چار میزائل فائر کیے گئے، جس سے دہشت گردوں کا یہ مرکز مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

Karte Pakistan mit Waziristan

پاکستانی قبائلی علاقوں میں 2010ء میں ریکارڈ ڈرون حملے کیے گئے

یہ بات ابھی نہیں بتائی گئی ہے کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کون تھے۔ گزشتہ روز جنوبی وزیرستان میں کیے جانے والے ڈرون حملے میں پانچ افراد ہلاک ہو ئے تھے۔ لاہور میں27 جنوری کو دو پاکستانیوں کو قتل کرنے کے الزام میں امریکی باشندے ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے بعد سے ڈرون حملوں میں وقفہ آ گیا تھا۔ اس وجہ سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ ڈیوس کی گرفتاری اور ڈرون حملوں میں وقفے کے درمیان کوئی ربط ہے۔ پاکستانی حکومت اس وقت ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے معاملے میں شدید امریکی دباؤ میں ہے۔

گزشتہ برس پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا تھا۔ 2010ء میں100سے زائد ڈرون حملوں میں تقریباً 670 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 2009ء میں ڈرون حملوں کی تعداد 45 تھی، جن میں 420 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: عصمت جبین

DW.COM

ویب لنکس