1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی قانون سازوں کی طرف سے اسامہ کے لیے دعائے مغفرت

تین قانون سازوں نے پارلیمان کے اندر القاعدہ کے ماسٹر مائنڈ اسامہ بن لادن کے لیے دعائے مغفرت کی۔

default

اسلام آباد میں پارلیمان کی عمارت کے باہر سخت پہرہ

اسامہ ایک ہفتہ قبل دارالحکومت اسلام آباد سے نزدیک شہر ایبٹ آباد میں ہوئے امریکی کمانڈو آپریشن میں مارا گیا تھا۔ امریکی بحریہ کے خصوصی دستے SEALS نے دو مئی کو علی الصبح فوجی چھاؤنی ایبٹ آباد کے علاقے بلال ٹاؤن میں قائم ایک قلعہ نما عمارت پر آپریشن کر کے اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا تھا۔ مبینہ طور پر سعودی نژاد اسامہ بن لادن گزشتہ پانچ برسوں سے ایبٹ آباد میں اسی عمارت میں روپوش تھا۔ اس امریکی آپریشن کے بعد سے اسلام آباد اور واشنگٹن کے مابین کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ روز پارلیمان کےایوان زیریں میں ایک دعائیہ تقریب کے دوران ممبر قومی اسمبلی مولوی عصمت اللہ نے کہا " بن لادن ایک عالمی شخصیت تھی اور سب سے بڑھ کر وہ ایک مسلمان تھا۔ میں اُس کے لیے دعائے مغفرت کواپنا مذہبی فریضہ سمجھتا ہوں‘۔ پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے آزاد قانون ساز اور ممبر نیشنل اسمبلی مولوی عصمت اللہ نے کہا کہ اسامہ کے لیے دعائے مغفرت میں اُن کے ساتھ جمعیت علمائے اسلام ( ف) سے تعلق رکھنے والے لئیق محمد خان اور عطا الرحمٰن بھی شریک تھے۔ ان کی جماعت 2010ء تک حکومت میں شامل تھی۔

Proteste in Pakistan

پاکستان میں مظاہروں کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے

مولوی عصمت اللہ کے مطابق پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر نے گرچہ پارلمیان میں اسامہ کے لیے دعا کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا تاہم انہوں نے مائیکروفون کی آواز صحیح طور سے بند نہیں کی تھی اور اس طرح اسامہ کے لیے کی جانے والی دعا ہر کوئی سن رہا تھا۔ پاکستان کے مختلف حلقوں کی طرف سے ایبٹ آباد پر ہوئے امریکی آپریشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسلام آباد نے امریکہ کے اس الزام کی تردید بھی کی ہے کہ تین ہزار انسانوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے نائن الیون کے دہشت گردانہ واقعے کے معمار اسامہ بن لادن کو پاکستان نے پناہ دے رکھی تھی۔

اُدھر امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے کہا ہے کہ اُس نے ایبٹ آباد آپریشن کے بارے میں پاکستانی حکام کو اعتماد میں اس لیے نہیں لیا تھا کہ امریکہ کو یہ ڈر تھا کہ پاکستانی ایجنٹس اسامہ کو خبر دار کردیں گے۔ دریں اثناء واشنگٹن کی طرف سے حکومت پاکستان اور پاکستانی فوج پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ یہ اس امر کی وضاحت پیش کریں کہ القاعدہ کا لیڈر اتنے طویل عرصے تک پاکستان کی ملٹری اکیڈمی اور دار الحکومت اسلام آباد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر کس طرح خفیہ سکونت اختیار کیے رہا۔

Pakistan Maulana Fazlur Rehman Führer der Jamiat-e-Ulama-e-Islam

فضل الرحمٰن کی پارٹی جے یو آئی 2010ء تک حکومت میں شامل تھی

مولوی عصمت اللہ پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں بن لادن کی ہلاکت کے بعد منعقد ہونے والے سینکڑوں افراد کے مظاہروں کی قیادت کر چُکے ہیں۔ پہلی ریلی دو مئی کو اسامہ کی ہلاکت کی خبر عام ہونے کے فوراً بعد ہی نکالی گئی تھی جس میں مظاہرین نے امریکی پرچم کو نذر آتش کیا تھا اور’امریکہ مردہ باد‘ کے نعرے لگائے تھے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس