1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی فوج کے سربراہ کا دورہء برسلز ملتوی

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے پہلے سے طے شدہ دورہ برسلز کو بھی ملتوی کر دیا گیا

جنرل اشفاق پرویز کیانی

جنرل اشفاق پرویز کیانی

جنرل کیانی کو برسلز میں نیٹو حکام سے ملاقاتیں کرنا تھیں۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ فوجی سربراہ نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر صلاح مشوروں کے لیے اپنا دورہ ملتوی کیا ہے۔

ادھر بھارتی فوج کے سربراہ کے اس بیان کو بھی مقامی ذرائع ابلاغ میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ بھارتی فوج بھی پاکستان میں امریکی طرز کی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارتی جنرل کے اس بیان کے جواب میں پاکستانی فوج کی طرف سے کوئی براہ راست جواب تو نہیں دیا گیا لیکن وزیراطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بدھ کے روز قومی اسمبلی میں اسامہ بن لادن کی موت پر پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایبٹ آباد جیسی کارروائی اب دوبارہ نہیں ہو سکتی۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ اور تمام حلقوں کو یہ بات مد نظر رکھنا ہوگی۔ انہوں نے کہا: ’’اس قسم کے حالات میں پاکستان اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ کوئی پاکستان کے اس تعاون سے ایسا مفہوم اخذ کر لے کہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ہو سکتا ہے ۔ یہ بات تمام متعلقہ حلقوں پر واضح کر دی گئی ہے کہ پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ بلا شبہ مقدس فرائض میں سب سے بڑا فریضہ ہے۔ اس فرض کی ادائیگی اور ان ریاستی اداروں اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے محب وطن عوام کے لیے محترم ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم کو جاری رکھتے ہوئے کثیر الجہتی چیلنجز کا سامنا کیا جائے۔‘‘

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں

امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پنیٹا کا وہ بیان بھی آج پاکستانی ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں رہا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اسامہ کی موجودگی سے لاعلمی میں یا تو پاکستانی حکام ملوث تھے یا وہ نا اہل ہیں۔ دفاعی امور کے تجزیہ نگار جنرل (ر) عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی اور پھر حکام کے اس پر تنقیدی بیانات بظاہر پاکستانی قیادت کی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’جب ہم کہتے ہیں کہ ہم امریکہ کے اتحادی ہیں، فرنٹ لائن اسٹیٹ ہیں، ہم تعاون کر رہے ہیں اور قربانیاں دے رہے ہیں۔ اسٹریٹیجک تعاون کی بات کر رہے ہیں تو ایسی صورتحال کیوں پیش آئی ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کے لیے پاکستان کی سرزمین پر حملہ کر رہا ہے اور ہمیں اعتماد میں نہیں لے رہا تو یہ ہماری قیادت کی بھی ناکامی ہے۔‘‘

دوسری جانب دفاعی تجزیہ نگار جنرل (ر) طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوجی قیادت کو چاہیے کہ وہ اسامہ سے متعلق اصل حقائق سے قوم اور دنیا کو آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا: ’’ ان کو بتانا چاہیے کہ واقعی لاعلمی تھی یا دانستہ طور پر کسی پالیسی کے تحت اس کو پوشیدہ رکھا گیا تھا۔ یہ جواب تو دینا پڑے گا ورنہ ہمارے اوپر اس قسم کے الزامات تو لگتے رہیں گے۔ پاکستان کو صاف و شفاف طریقے سے بتانا چاہیے اگر ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں تو ان پر پردہ ڈالنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ میرے خیال میں سب سے پہلے انہیں اپنی عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ اور جب تک یہ قوم کو اعتماد میں نہیں لیں گے لوگ سخت ابہام میں رہیں گے۔‘‘

دریں اثناء بدھ کے روز راولپنڈی میں عسکری قیادت کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لے کر فوج کی حکمت عملی سے متعلق سویلین قیادت کو آگاہ کیا جائے گا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئندہ ایک دو روز میں کور کمانڈروں کا اجلاس بھی متوقع ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت: کشور مصطفٰی

DW.COM