1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’’پاکستانی فوج عسکریت پسندوں کو معاونت فراہم کرتی ہے‘‘

ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی افواج نے افغانستان متعین نیٹو فورسز پر حملوں کے لیے عسکریت پسندوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور بظاہر ان کا ساتھ بھی دیتی ہے۔

default

پاکستانی آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا

افغانستان متعین نیٹو افواج کے نائب کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کرٹس سکاپوروٹی Curtis Scaparrotti  کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند ایسے مقامات سے اُن پر راکٹ اور مارٹر گولے داغتے ہیں، جو بظاہر پاکستانی فوجی چھاؤنیوں سے باآسانی نظر آتے ہیں۔

کابل سے بذریعہ ویڈیو لنک واشنگٹن کے صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مشرقی صوبوں پر پاکستان کی جانب سے راکٹ حملوں میں ڈرامائی حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق صوبہ پکتیکا اور کُنڑ پر گزشتہ تین ماہ سے راکٹ اور مارٹر حملے ہو رہے ہیں، جن میں متعدد عام شہریوں کی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔

Pakistan Militär NO FLASH

امریکی حکام کی جانب سے پاکستانی فوج پر اس قسم کے الزامات پہلے بھی کئی مرتبہ عائد کیے جاچکے ہیں

لیفٹیننٹ جنرل کرٹس  کا کہنا تھا کہ سرحد پر پاکستان کی فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار متعین ہیں، جو فوج کے مقابلے میں قدرے کم تربیت یافتہ ہیں۔ امریکی جنرل سکاپوروٹی کے بقول پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد دو طرفہ رابطے بھی پہلے کی طرح فعال نہیں رہے۔ ان کے مطابق ایک برس قبل سرحد پر افغان، نیٹو اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کے درمیان مواصلاتی رابطے مکمل طور پر بحال تھے اور اعلیٰ افسران سہ ماہی بنیادوں پر اجلاس میں شریک ہوتے تھے، ’’ مئی میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد وہ عمومی رابطے بسا اوقات دستیاب ہی نہیں تھے، ہمیں سرحد پر افسران کی ملاقاتیں منعقد کروانے اور دو طرفہ رابطے بحال رکھنے میں بھی مشکلات کا سامنا رہا۔‘‘

امریکی حکام کے مطابق پاکستانی میں مقیم عسکریت پسندوں کا حقانی نیٹ ورک پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے بہت قریب ہے اور وہی بیشتر حملوں کا ذمہ دار بھی ہے۔ امریکی جنرل کرٹس کے مطابق ’آپریشن نائف ایج‘ کے تحت افغان اور نیٹو فورسز نے گزشتہ کچھ عرصے میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف خاصے کامیاب آپریشن کیے ہیں۔

Hillary Clinton in Pakistan

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اسلام آباد میں پاکستان وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کے موقع پر

فوجی عہدیداروں کے ساتھ ساتھ امریکی سیاسی قیادت بھی اسلام آباد پر دباؤ برقرار رکھے ہوئی ہے۔ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ عسکریت پسندوں کے خلاف مزید کارروائیاں کرے۔ حالیہ دورہء پاکستان سے واشنگٹن لوٹنے کے بعد انہوں نے کہا، ’’ہم پاکستان سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ طالبان اور دیگر عسکریت پسندوں کی نیک نیتی سے افغان امن عمل میں شرکت کی حوصلہ افزائی کرے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستانی حکام پر واضح کر دیا ہے کہ نہتے شہریوں پر حملے کرنے والوں میں سے اچھے اور برے کا فرق نہ کیا جائے۔ امریکی ایوان کی خارجہ امور سے متعلق کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں انہوں نے کہا، ’’ میں نے یہ وضاحت کی کہ اچھے اور برے دہشت گردوں میں فرق کرنا خود شکستگی اور خطرناک عمل ہے‘‘۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: افسر اعوان

DW.COM