1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستانی فوج بھی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی فہرست میں شامل

بدعنوانی پر نگاہ رکھنے والے عالمی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے پاکستانی چیپٹر نے بدعنوان اداروں کی درجہ بندی کے دوران کیے جانے والے اپنے سالانہ سروے کی فہرست میں پہلی مرتبہ فوج کو بھی شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

default

ٹرانسپیرنسی انٹرنشینل پاکستان TIP ہر سال ایک سروے کروانے کے بعد بدعنوان اداروں کی ایک فہرست جاری کرتی ہے۔ ابھی تک اس سروے کی فہرست میں فوج کا ادارہ باقاعدہ طور پر شامل نہیں تھا۔ تاہم سال 2011ء کے بدعنوان ترین اداروں کی فہرست جاری کرتے ہوئے TIP کے چیئر مین سہیل مظفر نے کہا کہ آئندہ برس اس حوالے سے جو سروے کروایا جائے گا، اس میں پاکستانی فوج کا ادارہ بھی شامل کیا جائےگا۔

TIP کے سروے کے نتائج کے مطابق سال 2011ء کے دوران بدترین اداروں میں فوج کا نمبر نواں تھا جبکہ تعلیم کا شعبہ دسویں نمبر پر رہا۔ بدھ کو کراچی میں سال 2011ء کے بدترین اداروں کی فہرست شائع کرتے ہوئے سہیل مظفر نے بتایا کہ اس برس پاکستان میں بدعنوانی میں بہت زیادہ اضافہ نوٹ کیا گیا اور سابقہ تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ اس مرتبہ بد ترین ادارہ لینڈ ایڈمنسٹریشن کا قرار پایا جبکہ گزشتہ چار برس سے سرفہرست رہنے والا پولیس کا ادارہ دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔

NO FLASH Transparency International Logo Korruption Bestechung Transparenz

سروے کے مطابق پاکستان کا بد ترین ادارہ لینڈ ایڈمنسٹریشن کا قرار پایا ہے جبکہ گزشتہ چار برس سے سرفہرست رہنے والا پولیس کا ادارہ دوسرے نمبر پر آگیا ہے

گیلپ پاکستان کی طرف سے کروائے گئے اس سروے کے نتائج کے مطابق پاکستان میں تیسرا بدعنوان ادارہ محصولات کا ہےجبکہ چوتھے نمبر پر عدلیہ ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کا شعبہ، انکم ٹیکس، کسٹمز، ٹینڈرنگ و کنٹریکٹنگ کے ادارے بالترتیب پانچویں، چھٹے، ساتویں اور آٹھویں نمبر پر آچکے ہیں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مشیر عادل گیلانی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ پاکستان میں بدعنوان اداروں کی درجہ بندی کرنے والی فہرست میں فوج کو اس لیے شامل کیا گیا ہے تاکہ اس عمومی تاثر کو ختم کیا جا سکے کہ TIP کے سروے جانبدار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’اس مرتبہ کی فہرست میں فوج کا نمبر نواں ہے، جو کہ عوامی ردعمل کی بنیاد پر ہے۔ تاہم آئندہ برس ہم اس بارے میں مزید تفصیلات بیان کریں گے‘۔ انہوں نے کہا، ’ یہ تاثر عام ہے کہ فوج کی نسبت دیگر ادارے زیادہ کرپٹ ہیں تاہم آئندہ برس ہم اس بارے میں مفصل رپورٹ پیش کریں گے‘۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس