1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی فوج ’ایم کیو ایم کو نشانہ‘ کیوں بنا رہی ہے

پاکستان کی لبرل سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے کارکنوں کے خلاف پیرا ملٹری فورسز کا کریک ڈاؤن شدید ہوتا جا رہا ہے۔ کیا یہ سچ ہے؟ یہ جاننے کے لیے ڈی ڈبلیو نے بات کی تجزیہ نگار عارف جمال سے۔

متحدہ قومی موومنٹ کا الزام ہے کہ پیرا ملٹری رینجرز دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اس کے سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ کراچی کی اس مقبول پارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ سندھ میں یہ نیا آپریشن دراصل اس کو نشانہ بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ کئی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ ایک طرف تو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان پیپلز پارٹی جیسی لبرل اور ترقی پسند سیاسی جماعتوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف ملکی فوج مبینہ طور پر اسلام پسند گروہوں کو معاونت بھی فراہم کر رہی ہے۔

DW.COM

امریکا میں مقیم صحافی اور متعدد کتابوں کے مصنف عارف جمال کا خیال ہے کہ پاکستانی فوج دراصل اہم سیاسی پارٹیوں کو کمزرو کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ شہری اداروں اور حکومت پر اپنا اثر و رسوخ مزید بڑھا سکے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کراچی میں ایم کیو ایم کو کمزور بنا کر اسلام پسندوں کو طاقت ور بنانا چاہتے ہیں۔ جمال عارف سے ڈی ڈبلیو کی گفتگو کا خلاصہ:

ڈی ڈبلیو: کیا آپ ایم کیو ایم کے اس دعوے سے متفق ہیں کہ فوج اس کے کارکنوں کو ہدف بنا رہی ہے؟

عارف جمال: بہت سے شواہد ہیں کہ پاکستانی فوج ایم کیو ایم کو ہدف بنا رہی ہے۔ اب فوج نے پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ یہ کریک ڈاؤن پورے ملک میں ہو رہا ہے، جس کا مقصد تمام بڑی سیاسی پارٹیوں کو کمزور بنانا ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں منقسم رہیں گی تو وہ اتحاد بھی نہیں بنا سکیں گی۔ اس صورتحال میں فوج ان کمزور پارٹیوں کو اپنے اقدامات کی حمایت کے لیے مجبور کر سکے گی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جنرل راحیل شریف تمام فیصلہ ساز ملاقاتوں میں وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ہوتے ہیں۔ پاکستانی میڈیا کی رپورٹنگ کے مطابق راحیل شریف ہی اصل طاقت کا سرچشمہ ہیں۔ وہ کبھی بھی اپنی فوجی کیپ پہنے نظر نہیں آئے، جس کا مطلب ہے کہ انہیں اپنے شہری افسران کو سلیوٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ واضح ہے کہ رینجرز، پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کو براہ راست فوج سے احکامات موصول ہو رہے ہیں۔ ملکی میڈیا بھی مکمل طور پر فوج کی زبان بولتا نظر آ رہا ہے۔

ڈی ڈبلیو: یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ فوج ایم کیو ایم کے خلاف ایکشن لے رہی ہے۔ نوّے کی دہائی میں بھی تقریباﹰ ایسا ہی آپریشن کیا گیا تھا۔

عارف جمال: اقتدار میں ہو یا نہ ہو، لیکن ملکی فوج سیاسی جماعتوں کو بنانے اور توڑنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ 80 کی دہائی کے اواخر میں فوج نے ایم کیو ایم کی تخلیق اور اسے مقبول بنانے کے لیے حوصلہ افرائی کی تھی، جس کا مقصد پاکستان پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچانا تھا۔ جب فوجی جرنیلوں کو احساس ہوا کہ ایم کیو ایم طاقت ور ہو گئی ہے تو اس نے اس پارٹی میں تقسیم ڈالنے کی کوشش شروع کر دی۔ ایم کیو ایم ہی واحد سیاسی پارٹی نہیں، جسے فوج کی طرف سے پریشانی کا سامنا ہے۔ دیگر کئی پارٹیوں کو بھی فوج کی طرف سے آپریشن کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ فوج مختلف اوقات میں مختلف طریقے استعمال کرتے ہوئے سیاسی پارٹیوں کو تقسیم کرتی رہی ہے۔ اس کا مقصد صرف یہی ہے کہ طاقت ور سیاسی پارٹیاں دراصل سیاست میں فوج کی اتھارٹی کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہیں۔

ڈی ڈبلیو: ناقدین کے مطابق لبرل پارٹی ہونے کے باوجود ایم کیو ایم نے کراچی میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے ’دہشت ‘ کا سہارا بھی لیا ہے، اس لیے اس کے خلاف فوجی آپریشن جائز ہے؟

عارف جمال: خطے کے دیگر ممالک کی طرح پاکستانی معاشرے میں بھی تشدد پایا جاتا ہے۔ وہاں سیاسی پارٹیاں اکثر اوقات ہی تشدد کا سہارا لیتی ہیں۔ تاہم سیاسی تشدد کو دہشت گردی کا نام دینا نامناسب ہو گا۔ پاکستان میں جماعت اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام جیسی مذہبی جماعتیں بھی فعال ہیں، جو دہشت گردی کو اسپانسر کرتی ہیں۔ اگر دہشت گردی ہی وجہ ہے تو فوج کو ان مذہبی جماعتوں کے خلاف بھی کارروائی کرنا چاہیے۔ جماعت اسلامی کا عسکری دھڑا ’حزب المجاہدین‘خطے میں سب سے بڑا دہشت گرد گروہ ہے۔ جماعت الدعوة (سابقہ لشکر طیبہ) بھی دہشت گرد ہے۔ لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ فوج بذات خود ان گروہوں کی فنڈنگ کرتی ہے۔

ڈی ڈبلیو: لاہور ہائی کورٹ کے اس حالیہ فیصلے کو آپ کیسے دیکھتے ہیں، جس کے تحت الطاف حسین کی تقاریر کو ملکی میڈیا پر نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے؟

عارف جمال: لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے الطاف حسین کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے اور ان کی تقاریر یا تصاویر پر پابندی کا فیصلہ پاکستانی معیارات کے مطابق بھی غلط ہے۔ یہ فیصلہ تمام قوانین اور جمہوری اقدار کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ یہ فیصلہ بھی اس آرمی مہم کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جس کے تحت سیاسی پارٹیوں بالخصوص ایم کیو ایم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

Arif Jamal

پاکستانی فوج دراصل اہم سیاسی پارٹیوں کو کمزرو کرنا چاہتی ہے، عارف جمال

ڈی ڈبلیو: ایم کیو ایم کو کمزور کرنے سے پاکستانی سیاسی منظرنامے پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

عارف جمال: ایم کیو ایم یا دیگر سیاسی پارٹیوں کو کمزور بنانے سے پاکستان میں جہادی گروہوں کو پنپنے کا موقع ملے گا۔ سیاسی معاملات میں فوجی مداخلت اور سازشوں کی وجہ سے 1988ء کے بعد سے پاکستان میں کوئی بھی سول حکومت مطلوبہ نتائج پیش نہیں کر سکی۔ اسی وجہ سے عوام جمہوریت اور سول حکومتوں پر اعتماد کھو چکے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ پاکستان میں جماعت الدعوة جیسے دہشت گرد گروہ کھلے عام چندے جمع کرتے ہیں جبکہ سیاسی جماعتوں پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کی مالی مدد کرتی ہیں۔ اب ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ’ضرب عضب‘ کا مقصد سیاسی پارٹیوں کو کمزور بنانا ہے نہ کہ دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا۔ عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دیے جانے والے شدت پسند جیسا کہ حافظ سعید اور حزب المجاہدین سے وابستہ یوسف شاہ کھلے عام فنڈ ریزنگ کر رہے ہیں۔ یہ کھلے عام ریلیاں منعقد کرتے ہیں اور نئے جنگجو بھرتی کرتے ہیں۔ لیکن میری رائے میں انہیں کسی روک ٹوک کا سامنا نہیں ہے۔ عید کے موقع پر یہ لوگ لاکھوں ڈالر کا چندہ اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن ایم کیو ایم کو جسے وہ حقیقی چیرٹی کہتی ہے، کے لیے فنڈ ریزنگ کی اجازت نہیں ہے۔

ڈی ڈبلیو: پاکستانی فوج آخر یہ سب کچھ کیوں کر رہی ہے؟

عارف جمال: پاکستانی جرنیلوں نے ابھی تک اپنی پالیسی نہیں بدلی۔ وہ جہاد کو اپنی دفاعی پالیسی کا اہم جزو سمجھتے ہیں۔ پاکستانی فوج آج بھی ’اچھے جہادیوں‘ کی حمایت کرتی ہے۔ ان میں سلفی گروہ جماعت الدعوة بھی ہے، جو میری رائے میں انتہا پسند گروہ داعش اور نائجیریا میں فعال شدت پسند گروہ ’بوکو حرام‘ کی طرح ہی انتہا پسندانہ تعلیمات اور نظریات پر عمل پیرا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جون 2014ء میں کامیابیاں سمیٹنے کے بعد داعش نے افغانستان اور پاکستان میں بھی اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیا۔ داعش نے کئی اسلام پسند دہشت گردانہ گروہوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ لگتا ہے کہ افغانستان میں جماعت الدعوة اور داعش کا اتحاد ہے۔ اس لیے بظاہر پاکستانی فوج بھی ایسے ’اچھے جہادیوں‘ کا ایک اتحاد بنانا چاہتی ہے، جن میں مثال کے طور پر جماعت الدعوة جیسے گروپ شامل ہوں۔