1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’پاکستانی فنکار 48 گھنٹے میں بھارت چھوڑ دیں‘

بھارت کی ایک انتہا پسند سیاسی جماعت مہاراشٹر نونرمان سینا (MSN) نے بھارت میں کام کرنے والے پاکستانی فنکاروں کو 48 گھنٹوں کے اندر اندر بھارت چھوڑنے کی دھمکی دے دی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اس گروپ کے ایک رہنما امے کھوپکر کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی فنکار بھارت سے واپس پاکستان نہ گئے تو انہیں یہاں سے دھکے دے کر نکالا جائے گا۔

امے کھوپکر نے پاکستانی فنکاروں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے بھارتی پروڈیوسروں کی بھی پٹائی کرنے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا:’’پاکستانی فنکار تو مار کھائیں گے ہی، ساتھ میں ان پروڈیوسروں اور ڈائریکٹروں کو بھی مار پڑے گی، جو ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔‘‘

اس انتہا پسند تنظیم کی جانب سے پاکستانی فنکاروں کو یہ دھکمی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے، جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر چکی ہے۔ 18 ستمبر کو لائن آف کنٹرول کے سرحدی علاقے اڑی میں ایک حملے میں 18 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ بھارت نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ حملہ آور پاکستان سے سرحد پار کر کے بھارت میں داخل ہوئے تھے۔ پاکستان نے ان الزامات کی تردید کر دی ہے۔

ایم این ایس نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی کہا کہ وہ ممتاز فلم ہدایتکار کرن جوہر کی جانب سے پروڈیوس کی جانے والی فلم ’اے دل ہے مشکل میں‘ کو ریلیز نہیں ہونے دیں گے کیوں کہ اس میں پاکستانی اداکار فواد خان کو کاسٹ کیا گیا ہے۔ یہ فلم اگلے کچھ دنوں میں ریلیز ہونے والی ہے۔

ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ بھارت کی کسی جماعت نے پاکستانی فنکاروں کو دھمکی دی ہو۔ ماضی میں ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا نے پاکستانی غزل گائیک غلام علی کے ایک کنسرٹ کو منسوخ کرا دیا تھا۔

DW.COM