1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستانی عوام دریاؤں کے کنارے آباد نہ ہوں، اقوام متحدہ

قدرتی آفات سے تحفظ سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ پاکستان میں لوگوں کو دریاؤں کے کناروں سے دور آباد ہونا چاہئے۔ اس ادارے کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کا ضیاع ہی تباہی کو شدید بناتا ہے۔

default

اقوام متحدہ کے قدرتی آفات کی شرح میں کمی سے متعلق ادارے کے پالیسی ڈائریکٹر سلوانو بریسینو نے کہا ہے کہ لوگ دریا کے کناروں پر آباد نہ ہوں تویقیناً بارشیں، شدید گرمی اور سیلاب کم تباہ کن ہوں گے۔

China Erdrutsch 8. August 2010

چین میں متی کے تودے گرنے سے متعدد افراد ہلاک ہوئے

ادارے نے چین میں مٹی کے تودے گرنے، روس میں جنگلاتی آگ اور نائجیریا کی خشک سالی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات میں ہونے والی تباہی سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح مختلف آبادیاں اور شہر خطرناک علاقوں میں بس رہے ہیں۔

سلوانو بریسینوکے بقول آبادیوں کے قدرتی آفات کی زد میں آنے کے واقعات میں آئے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور حکومتیں اور متعلقہ اہلکار اس مسئلے کوسنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شدید موسمی حالات اور تبدیلیوں کے علاوہ غربت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے لوگ ایسے علاقوں کا رخ کر رہے ہیں، جہاں کسی بھی آفت کی صورت میں زبردست تباہی ہو سکتی ہے۔ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ غربت، جنگ اور اندرون ملک ہجرت اس کام میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ سیلاب سے ہونے والے تباہی پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے نہ کہ اس کے اثرات سے بچنے کے اقدامات پر۔

اقوام متحدہ کے مطابق جنوبی ایشیا میں مون سون بارشیں ہر سال کچھ نہ کچھ تباہی لاتی ہیں اور اس میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہمالیہ کے پہاڑوں پرگلیشیئرز کے پگھلنے کا بھی ہاتھ ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ دریاؤں کے کنارے لوگ مختلف وجوہات جیسے ماہی گیری اورکاشت کاری کی وجہ سے آباد ہوتے ہیں حالانکہ ان علاقوں میں آباد کاری کی کبھی اجازت ہی نہیں تھی۔ سلوانو بریسینو نے کہا کہ یہ جانتے بوجھتے خطرے سےکھیلنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے پاکستان حکومت کی جانب سے سیلاب کے انتباہی نظام کی تنصیب کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ اس وقت شروع ہو گا، جب متاثرین کی دوبارہ آباد کاری کے عمل کی ابتداء ہوگی۔

NO FLASH Russland Brände Feuerwehr

روس میں جنگلات کی آگ سے وسیع تر علاقہ متاثر ہوا

اس موقع پر نقل مکانی کرنے والے افراد کو ایسے علاقوں میں آباد نہیں ہونے دینا چاہئے، جہاں سیلاب یا زلزلے سے تباہی کے خطرات موجود ہوں۔

اقوام متحدہ کے قدرتی آفات کی شرح میں کمی سے متعلق ادارے کے پالیسی ڈائریکٹر سلوانو بریسینو کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت قدرتی آفات کےحوالے سے جن چیلنجز کا سامنا ہے ، ان کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ تباہی کے بعد مقامی انتظامیہ لوگوں کو ایسے علاقوں سے دور بسنے کی ترغیب دے رہی ہے، جو شدید بارشوں کی وجہ سے دوبارہ مٹی کے تودوں کی زد میں آ سکتے ہوں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس