1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی علاقے پارہ چنار میں قافلے پر حملہ، آٹھ ہلاک

پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں عسکریت پسندوں نے گاڑیوں کے ایک قافلے پر حملہ کرکے کم از کم آٹھ افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ اس دہشت گردانہ کارروائی کے دوران قریب 40 افراد کو اغواء بھی کر لیا گیا ہے۔

default

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق افغان سرحد کے قریب حملے کا نشانہ بننے والا گاڑیوں کا قافلہ طالبان کے مخالف ایک قبیلے کا تھا۔ کُرم ایجنسی کے علاقے بگان کے قریب ہونے والے اس حملے میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران پاکستانی سکیورٹی فورسز اس علاقے میں سینکڑوں طالبان عسکریت پسندوں کو ہلاک کر چکی ہیں۔

ایک قبائلی سردار حاجی یوسف نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’’یہ پانچ بسوں پر مشتمل ایک قافلہ تھا، جس پر حملہ کیا گیا۔ اس میں آٹھ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔‘‘ ایک اور قبائلی سردار عابد الحسینی کے بقول: ’’عسکریت پسند 40 مسافروں کو اپنے ساتھ یرغمال بنا کر لے گئے ہیں اور انہوں نے دو بسوں کو آگ بھی لگا دی۔‘‘

Buddhastatuen in Bamiyan Flash-Galerie Taliban Krieger

گزشتہ چند ماہ کے دوران طوری قبائل اور طالبان کی پشت پناہی رکھنے والے افراد کے درمیان مسلح تصادم کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں

ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق کُرم ایجنسی کے طوری قبیلے سے ہے، جس نے حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے طالبان پر اپنے علاقے کو بطور گزرگاہ استعمال کرنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران طوری قبائل اور طالبان کی پشت پناہی رکھنے والے افراد کے درمیان مسلح تصادم کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

طالبان کی طرف سے طوری قبائل سے امن معاہدے کی کوششیں بھی کی جاتی رہی ہیں تاکہ انہیں افغانستان میں آنے جانے کے لیے سہولت میسر آ سکے۔

اس علاقے میں موجود حکومتی ذرائع نے اس حملے کی تصدیق تو کی ہے مگر اغواء کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ حملے کا نشانہ بننے والا قافلہ پشاور سے کُرم ایجنسی جارہا تھا۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس