1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستانی عسکریت پسند بھی سماجی ویب سائٹس پر

سماجی ویب سائٹ فیس بک اور ٹوئٹیرکا استعمال ہماری زندگی کا حص بن چکا ہے۔ ا ب پاکستانی انتہاپسندگروپوں نے لوگوں میں ہمدردی بٹورنے اور اپنے حامیوں اور دوستوں میں اضافہ کےلئے فیس بک اور ٹویئٹرکا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔

default

سماجی ویب سائٹ فیس بک اور ٹوئٹیر کی بات کی جائے تو فنکار اسے اپنی تشہیر کے لئے اور سماجی تنظیمں اپنی کارکردگی دکھانےکے لئے انہیں استعمال کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ اگر بچھڑے ہوئے کو تلاش کرنا ہو یا اپنے دوستوں سے اپنی پسندیدہ ویڈیو اورگانے شیئر کرنے ہوں تو بھی انہی ویب سائٹ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ان سہولیات کا استعمال صرف مثبت انداز میں ہی نہیں ہو رہا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کےکچھ منفی پہلو بھی سامنے آتے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں سخت گیرموقف رکھنے والی تنظیموں نے بھی اپنے ہمدردوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے لئے ان ویب سائٹس کا سہارہ لینا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان میں کالعدم قرار دی جانے والی تنظیمیں اور گروپس پابندی کے باوجود آزدای کے ساتھ اپنے پیغامات کی ترسیل کوآن لائن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ مغرب اور اسلام کے درمیان کے فرق کو مزید واضح کرنے اور

Facebook Nutzer User Computer Internet Web 2.0 Flash-Galerie

فیس بک کا ایک پوسٹر

ثقافتوں کے مابین جنگ کو منفی انداز سے پیش کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی جانب سے ایسے افراد کے بیانات بھی شائع کئے جاتے ہیں، جو غیر مسلموں کے خلاف تشدد کو جائز قرار دیتے ہوئے اس کی ترغیب دیتے ہیں۔

طالبان معاملات اور پاکستان میں عسکریت پسندی کے امورکے ماہر عامر رانا کہتے ہیں کہ سوشل ویب سائٹس انتہاپسندوں کے لئے ایک آسان پلیٹ فارم ثابت ہو رہا ہے ’’ فیس بک اور ٹویئٹر جیسی ویب سائٹس کالعدم گروپس اور دیگر تنظیموں کو ایک ایسا فورم فراہم کر رہی ہیں، جس کی مدد سے انہیں اپنے پیغام کو پھیلانے میں کوئی مشکل نہیں ہو رہی اور ان کے لئے یہ ایک کارآمد ہتھیار کا کام دے رہےہیں‘‘

فیس بک پرکالعدم تنظیم سپاہ صحابہ اور اقوام متحدہ کی دہشت گردوں کی تنظیموں کی فہرست میں شامل جماعت الدعوۃ کے صفحات بھی موجود ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ قرار دیئےگئے گروپ ’حزب التحریر‘ نے گزشتہ دنوں ٹویئٹر کے ذریعے پاکستانیوں کو ایک پیغام دیا تھا کہ وہ پاکستان سے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو رسد پہچانے والے ٹرکوں کو نشانہ بنائیں۔ تنظیم کے ترجمان نوید بٹ نے کہا کہ وہ اس طرح پڑھے لکھے افراد اور اشرافیہ کواپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔گزشتہ ماہ سنگاپور میں انتظامیہ نے ایک بیس سالہ زیر تربیت فوجی کو گرفتارکیا ہے۔ وہ مختلف ویب سائٹ پر موجودجہاد سے متعلق خطبوں سے متاثر ہو کر مشرق وسطی، افغانستان اور عراق میں مسلم انتہا پسندوں کے ساتھ دینا چاہتا تھا۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس