1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی طالبان پر بین الاقوامی پابندیوں کا اطلاق

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعہ کے روز ایک قرارداد کی منظوری دی ہے جس کے تحت یہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کردی گئی ہے اور اب اسے بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا ہو گا۔

default

سلامتی کونسل کی جانب سے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کیا گیا ہے اور اس میں تحریک طالبان پاکستان پر پابندیوں سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔ بیان کے مطابق پابندیوں کے نفاذ سے اب تحریکِ طالبان پاکستان کے اثاثے منجمد کرنے کے علاوہ اسے ہر قسم کے ہتھیاروں کی فروخت کے علاوہ اس انتہاپسند تحریک کے رہنماؤں کو سفری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ امر اہم ہے کہ امریکہ پہلے ہی تحریکِ طالبان پاکستان کو ایک غیر ملکی دہشتگرد تنظیم قرار دے کر اسے بلیک لسٹ تنظیموں کی فہرست میں شامل کر چکا ہے۔ تحریک کے امیر حکیم اللہ محسود کا نام بھی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل ہے۔ وہ گزشتہ اکتوبر سے اس فہرست میں شامل ہے۔ اس تنظیم کی جانب سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں متعدد بڑی دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درامد کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

Karte Pakistan mit Waziristan

پاکستان کے قبائلی علاقے کو تحریک طالبان کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے

پاکستان کی قبائلی پٹی میں سرگرم تحریک طالبان پاکستان میں دہشتگردی کے کئی واقعات کی منصوبہ ساز ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی طالبان کی جانب سے سکیورٹی فورسز اور سویلین آبادیوں پر حملوں میں سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔ سلامتی کونسل کے رکن ملکوں کی جانب سے اس پابندی کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔

جمعہ کے روز سلامتی کونسل نے پابندیوں کی جس قرارداد کو منظور کیا ہے اس کے مطابق روس میں قفقاذ علاقے میں سرگرم مذہبی انتہاپسند گروپ اماراتِ قفقاذ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے اس پر بین الاقوامی پابندیوں کا نفاذ کردیا ہے۔ اس انتہاپسند تنظیم سے وابستہ انتہاپسند لیڈر ڈوکو عمراؤف کو بھی پابندیوں کا سامنا ہو گا۔ عمراؤف اس وقت روس میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے تناظر میں انتہائی مطلوب شخص خیال کیا جاتا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس