1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی صدر کے بیان پر بھارتی وزارت خارجہ کا احتجاج

بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے اس بیان پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے جس میں زرداری نے یہ کہا کہ بھارت کی طرف سے جن بیس مشتبہ افراد کی فہرست دی گئی ہے ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔

default

پاکستان کا موقف ہے کہ ابھی تک ممبئی بم حملوں کے سلسلے میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کئے گئے ہیں۔

بھارتی نجی ٹیلی ویژن چینل CNN-IBN نے وزارت خارجہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو فہرست پاکستان کو سونپی گئی ہے، اُس میں بیشتر افراد کا تعلق بھارت سے ہے اور پاکستان کو اُن کو بھارت کے حوالے کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق کئی مرتبہ پاکستان کو مشتبہ افراد کے بارے میں ثبوت فراہم کئے گئے ہیں لیکن ہر بار اسلام آباد نے یہ موقف اختیار کیا کہ ثبوت ناکافی ہیں۔

پاکستان کا موقف ہے کہ ابھی تک ممبئی بم حملوں کے سلسلے میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کئے گئے ہیں۔ بھارت نے جو فہرست پاکستان کو سونپی ہے، اُس میں عسکری تنظیم جیش محمد کے بانی مولانا مسعود اظہر، کالعدم گروپ لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ محمد سعید اور داوٴد ابراہیم کے نام شامل ہیں۔

Konflikt Indien Pakistan

اسلام آباد نے ممبئی حملوں کی تحقیقات کے تعلق سے مشترکہ تحقیقاتی نظام اور کمیشن کی تجویز پیش کی ہے تاہم بھارت نے اس تجویز کو پہلے ہی مسترد کردیا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے ایک امریکی نشریاتی ادارے کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ثبوت ملنے پر تمام مشتبہ افراد کے خلاف پاکستان کی سرزمین پر ہی کارروائی ہوگی۔ ’’ میری حکومت، ہماری حکومت، پاکستان کی جمہوری حکومت حملوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت اور مناسب کارروائی کرے گی۔‘‘ زرداری نے بھارت کے اس دعوے پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا، جس کے مطابق ممبئی حملوں میں مبینہ طور پر ملوث گرفتار کئے جانے والے شدت پسند کا تعلق پاکستان سے بتایا جارہا ہے۔

اسلام آباد نے ممبئی حملوں کی تحقیقات کے تعلق سے مشترکہ تحقیقاتی نظام اور کمیشن کی تجویز پیش کی ہے تاہم بھارت نے اس تجویز کو پہلے ہی مسترد کردیا ہے۔

ممبئی حملوں کے بعد امریکہ کے سیاست دانوں اور فوجی حکام کے بھارت اور پاکستان کے غیر معمولی دوروں پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان میں دفاعی امور کے تجزیہ نگار ریٹائرڈ بریگیڈیئر شوکت قادر کا کہنا تھا کہ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ہر قیمت پر جاری رکھنا چاہتا ہے۔