1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی صدر زرداری کا لندن میں خطاب

پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے جمعرات کی سہ پہر لندن میں انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کے ایک فورم سے خصوصی خطاب کیا جس کا عنوان تھا ’پاکستان، مسائل اور مواقع‘۔

default

زرداری نے خطے میں بدامنی کا ذمہ دار افغانستان میں ماصی کی جنگوں کو قرار دیا

صدر آصف زرداری نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان کو امداد کی نہیں تجارت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے فرینڈز آف پاکستان فورم میں برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کے کردار کو قابل تحسین قرار دیا۔

لندن میں عسکری علوم کے بین الاقوامی ادارے IISS کے فورم سے اپنے خطاب میں آصف زرداری نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی اور دیگر بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے خطے میں موجودہ صورت حال کا ذمہ دار افغانستان میں ماضی کی جنگوں اور پالیسیوں کو قرار دیا۔ صدر زرداری کے بقول پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے مفاد کے لئے لڑ رہا ہے اور دہشت گردوں کی کارروائیاں پاک بھارت تعلقات اور جمہوریت دونوں کے مفادات کے خلاف ہیں۔
یہ واضح کرتے ہوئے کہ پاکستان میں جمہوریت کو پائیدار بنانے کی ضرورت ہے، آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان جمہوریت کے لئے سخت جدوجہد کر رہا ہے، کیونکہ ایک مستحکم اور زیادہ جمہوری پاکستان دنیا میں امن کی بہتر علامت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے مابین جمہوریت کے طویل تعاون کا سفر موجود ہے۔ پاکستانی صدر نے کہا: ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، ہم دنیا سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون چاہتے ہیں، عالمی برادری کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد کرنا ہو گی۔‘‘

آصف زرداری نے ماضی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’ہم، ایک آزاد دنیا نے ڈرامائی حکمت عملی اپنا رکھی تھی، جس میں مذہبی طبقے کو موقع دیا گیا کہ وہ کھل کر جہاد کی من مانی تشریحات کرے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو مائل کرتا پھرے ۔‘‘

پاکستانی صدر کے مطابق اس حکمت عملی سے افغانستان سے سوویت فوجوں کا انخلاء تو ممکن ہو گیا تھا مگر اس کے بعد عالمی برادری نے کئی غلطیاں کیں، جن میں سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ سوویت دستوں کی واپسی کے بعد افغانستان کو جنگی کمانڈروں اور جہادی رہنماؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : مقبول ملک

DW.COM