1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی صدر زرداری ایران پہنچ گئے

پاکستانی صدر آصف علی زرداری آج ایران کا دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ اپنے ایرانی ہم منصب محمود احمدی نژاد اور ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ائی کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں۔

default

پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور ایرانی صدر احمدی نژاد

یہ دورہ ایک ایسے وقت کیا جا رہا ہے جب پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔

پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے ایران کے دورے سے قبل پاکستان میں ایرانی سفیر نےکہا تھا کہ ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہء خیال ہو گا۔ تاہم ایرانی سفیر نے اس ملاقات کے بارے میں کچھ زیادہ تفصیلات دینے سے گریز کیا تھا۔ پاکستانی صدر کے ہمراہ اس دورے پر وزیر داخلہ رحمان ملک بھی ہیں۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے، جب امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں گرمجوشی کا فقدان ہے۔ حال ہی میں امریکہ نے پاکستان کی فوجی امداد میں آٹھ سو ملین ڈالر کمی کا اعلان کیا تھا۔ یہ دورہ ایران کے افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

NO FLASH Gipfel im Iran Treffen Afghanistan Iran Pakistan

کیا ایران افغانستان میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے؟

امریکہ اور ایران کے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور پاکستانی حکومت کو بھی اس کا بخوبی اندازہ ہے۔ مبصرین کے مطابق ایک ایسے وقت جب کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہے، پاکستانی صدر کا ایران کا دورہ جلتی پہ تیل چھڑکنے کے مترداف ہو سکتا ہے۔ دو مئی کو ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ہی سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہیں۔

دوسری جانب بعض مبصرین کی رائے ہے کہ ایران کے ساتھ تعاون پاکستان کے لیے کئی حوالوں سے اہم ہے جن میں سر فہرست توانائی کا شعبہ ہے۔ پاکستان اس وقت توانائی کی شدید قلت کا شکار ہے اور ایران اس حوالے سے اس کی مدد کر سکتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی خواہش ہے کہ وہ علاقائی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرے تاکہ بھارت کے اثر کو زائل کیا جا سکے۔

NO FLASH Pakistan USA Militär Übung Manöver

حال ہی میں امریکہ نے پاکستان کی فوجی امداد میں آٹھ سو ملین ڈالر کمی کا اعلان کیا تھا

خیال رہے کہ پاکستان کے مغربی صوبے بلوچستان میں ایران سے متصل علاقوں میں جند اللہ جیسی تنظیمیں ایرانی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کیے ہوئے ہیں۔ ایران خود پاکستان میں وہابی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر سے خائف ہے۔

بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کی رائے یہ بھی ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان تعاون میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ تعاون امریکہ کو بالخصوص افغانستان میں نیٹو افواج کے انخلاء کے حوالے سے درکار ہے۔ تجزیہ نگاروں کی رائے میں اسلام آباد کو شاید ایرانی حکام کو یہ بھی سمجھانا پڑے کہ طالبان کا مستقبل کے افغانستان میں کیا کردار ہوگا۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM