1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستانی صحافیوں کا محتسب مقرر کرنے کا مطالبہ

پاکستان میں صحافتی برادری کی طرف سے انکی شکایات کے ازالے کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر آزاد اور با اختیار محتسب مقرر کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

default

ساوتھ ایشین فری میڈیا ایسو سی ایشن کے سیکرٹری جنرل امتیاز عالم نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی اور صوبائی محتسب کے عہدوں پر حکومتی حامیوں یا "چمچوں" کی تقرری کی بجائے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کا تقرر کیا جانا چاہئے ۔

ساوتھ ایشین فری میڈیا ایسو سی ایشن کی مرتب کردہ حالیہ رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ 2004 سے اب تک 48

Pakistan Journalist Syed Saleem Shahzad

سلیم شہزاد کی میت کا تابوت

صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران مارے جا چکے ہیں۔ ان میں سے 28 صحافی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ۔ امتیاز عالم کے بقول بد قسمتی یہ ہے کہ ان تمام کیسوں میں صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے ملزموں میں سے کسی ایک کو بھی ابھی تک سزا نہیں مل سکی ہے۔ مارے جانے ان صحافیوں کے گھر والوں کی دیکھ بھال بھی نہیں کی جا رہی ہے ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان صحافیوں کے پاس انشورنس کی سہولت بھی نہیں تھی اور ان میں سے بہت سے صحافیوں کو ان کے کام کا پورا معاوضہ بھی نہیں مل رہا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں امتیاز عالم نے بتایا کہ پاکستان کے جنگ زدہ علاقوں میں ایک ہزار سے زائد صحافی اس وقت رپورٹنگ کر رہے ہیں اور موجودہ حالات میں جنگی رپورٹنگ مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ رپورٹر کو خبر کے حصول کیلئے عسکریت پسندوں اور فوج سمیت سب سے رابطہ کرنا پڑتا ہے۔ کسی ایک فریق کا موقف رپورٹ کرنے پر دوسرا فریق صحافی کی جان لینے پر تیار ہو جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں امتیاز عالم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فوج اور میڈیا کے تعلقات کو از سر نو طے کرنے کی ضرورت ہے۔ میڈیا سے متعلق ریاستی اداروں اور حکومت کی پالیسیوں پر بھی نظر ثانی کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں اطلاعات کا مناسب قانون ہی نہیں ہے۔ اب یہ حکومتی حکم نامہ سامنے آیا ہے کہ سرکاری محکمے صحافیوں کو کچھ نہیں بتائیں گے۔

اس سوال کے جواب میں کہ جس ملک میں حکومت اور طاقتور ادارے سپریم کورٹ کی بات نہ مانتے ہوں وہاں صحافیوں کی لیے قائم کیے گئے محتسب کے فیصلوں پر کون عملدرآمد کروا سکے گا۔ امتیاز عالم کا کہنا تھا کہ محتسب کے قیام سے کم از کم ایف آئی آر تو درج ہو گی ، شکایت ریکارڈ پر آئے گی، کسی کو نوٹس جائے گا، کوئی پیش نہیں ہو گا تو اس پر شور اٹھے گا، آہستہ آہستہ اسی طرح ہی صورتحال بہتر ہو گی۔

ایک اور سوال جواب میں امتیاز عالم کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے خلاف عوامی شکایات کے ازالے کیلئے بھی اخباری اداروں کو بھی محتسب مقرر کرنے چاہئیں۔

Anschlag auf den Presse-Klub von Peschawar

پشاور پریس کلب پر بھی بم حملہ کیا گیا

پنجاب یونین آف جنرلسٹس کے سابق صدر جلیل حسن اختر نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ وفاقی وزارت اطلاعات سمیت حکومتی ادارے اور عمومی عدالتی نظام صحافیوں کے مسائل کے حل میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ صحافیوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہیں ،ان پر دباو بھی ڈالا جا رہا ہے، انہیں ویج بورڈ کے مطابق تنخواہوں کے مسئلے پر بھی انصاف نہیں مل سکا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آگیا ہے کہ میڈیا کے لئے آزاد محتسب کے تقرر سے اہل صحافت کے مسائل کے حل کی طرف پیش رفت کی جائے۔

جوڈیشل ایکٹویزم پینل کے سربراہ محمد اظہر صدیق ایڈو کیٹ نے بتایا کہ آئین کا آرٹیکل 19 اور 19اے عام لوگوں کے انسانی حقوق کی حفاظت س متعلق ہے۔ ان کے بقول اطلاعات تک رسائی پاکستانی آئین کے مطابق ہر شہری کا حق ہے۔ صحافیوں پر دباوڈالنے یا ان کے کام میں رکاوٹیں ڈالنے سے اطلاعات کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے جو کہ آئین کے منافی ہے اس لئے صحافیوں کے مسائل کے جلد حل کیلئے وفاقی محتسب کا تقرر ضروری ہے۔ ان کے بقول پارلیمنٹ اس سلسلے میں ضروری قانونی سازی کرے اور با اختیار محتسب کے فیصلوں کی عدم کی پیروی کیلئے توہین عدالت کے علاوہ بھی سخت سزائیں تجویز کی جانی چاہئیں۔

بلوچستان کے کسی خفیہ مقام پر چھپے ہوئے ڈیرہ غازی خان کے صحافی شوکت عباس سانگھی نے ٹیلیفون پر ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں قتل کے ایک مقدمے کی پاداش میں دہشت گردی کے ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسا دیا گیا ہے اور اس کے گھر پر چھاپے مار جا رہے ہیں اور اس کیلئے صحافتی فرائض کی انجام دہی بہت مشکل ہو گئی ہے۔ ان کے بقول میڈیا کیلئے متحسب کے تقرر سے شاید ان جیسے کئی دوسرے صحافیوں کی بھی داد رسی ہو سکے گی۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس