1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستانی صحافت کی معاشی مشکلات

پاکستان میں صحافی برادری آج کل شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔ ملازمتوں سے برطرفیاں، معاوضوں میں کمی اور تنخواہوں کے نہ ملنے کی وجہ سے صحافیوں کی بڑی تعداد کو معاشی پریشانیوں کا سامنا ہے۔

default

پاکستان میں صحافت کا شعبہ آج کل غیر یقینی صورت حال سے دو چار ہے اورملک بھر کے بیشتر صحافتی اداروں میں صحافیوں کی چھانٹیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلٹس کے مرکزی سیکرٹری جنرل شمس الاسلام ناز کے مطابق صرف پچھلے چھ مہینوں میں الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ 587 صحافیوں کو ملازمتوں سے نکال دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس صورت حال کا تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ صحافتی اداروں کے بعض مالکان کھلم کھلا اپنے ورکروں سے کہہ رہے ہیں کہ یا تو 50 فیصد کم تنخواہ پر کام کرنے کیلئے راضی ہو جائو یا پھر استعفیٰ دے کرگھر چلے جاؤ۔

ستم ظریفی تو یہ ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کے معاشی مفادات کو قانونی تحفظ بھی حاصل ہے لیکن صحافیوں کے رہنماوں کے مطابق صحافتی اداروں کے مالکان کی طرف سے مبینہ طورسوچے سمجھے منصوبے کے تحت کارکن صحافیوں کے ویج بورڈ پر عملدرآمد کے مسئلے کو قانونی موشگافیوں کی وجہ سے پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔

صحافی رہنما شمس الاسلام کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے صحافتی اداروں کے مالکان کی طرف سے 2000 میں لاگو ہو جانے والے ساتویں ویج بورڈ کے خلاف دائر کی گئی ایک اپیل کی پانچ سال تک سماعت کرنے کے بعد یہ قرار دیا کہ عدالت عظمیٰ اس کیس کی سماعت کا اختیار نہیں رکھتی اورمالکان کو اس مسئلے کو کسی اور مناسب فورم پر اٹھانا چاہیے۔ اب یہ مقدمہ کئی برسوں سے سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

Symbolbild Pressefreiheit

اس دورمیں صحافت کا پیشہ کاروباری طورپرمنافع بخش نہیں رہا ہے

وہ صحافی جو غیر منصفانہ طور پرکم اجرت پر ملازمت کرنے پر مجبورہیں انہیں بھی تنخواہوں کی بر وقت ادائیگی نہیں کی جارہی ہے۔ گنتی کی چند بڑے اخبارات کو چھوڑ کر بیشتر اخبارات میں تنخواہ کی ادائیگیاں کئی ماہ سے نہیں کی جا رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر اخبارات دور دراز کے علاقوں میں رپورٹنگ کرنے والے نامہ نگاروں کو معاوضے کی سرے سے ادائیگی ہی نہیں کرتے بلکہ بعض اخبارات انہیں صحافتی کارڈ جار ی کرنے کے عوض بھاری رقوم لیتے ہیں۔

صحافیوں کی ملازمتوں سے بر طرفیوں اور تنخواہوں کے بر وقت نہ ملنے کی شکایات ان کارکن صحافیوں کی طرف سےبھی موصول ہو رہی ہیں جو "کارکن دوست جماعت" پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے اخبارات میں کام کرتے ہیں۔

آج کل صحافتی حلقوں میں اس مالک ایڈیٹر کے چرچے ہیں، جس نے اپنے اخبار کے کارکنوں کو اکٹھا کر کے چند ماہ پہلے کہا تھا کہ نا مساعد معاشی حالات کی وجہ سے وہ اپنا اخبار بند کرنے پر مجبورہے۔ اس لئے اگر کارکن صحافی اس اخبار کی اشاعت کو جاری رکھنے کے خواہشمند ہیں تو وہ اپنی واجب الادا گذشتہ تنخواہوں سےدستبردار ہوجائیں۔ انہیں آئندہ سےتنخواہیں بروقت ادا کی جائیں گی۔

صحافتی اداروں کے بعض مالکان کا کہنا ہےکہ بد ترین معاشی بد حالی کے اس دورمیں صحافت کا پیشہ کاروباری طورپرمنافع بخش نہیں رہا ہے۔ ان کے مطابق جب ملک میں اقتصادی بہتری آئے گی۔ تب اخبارات کی معیشت بھی بہتر ہو گی اوراس طرح کارکن صحافیوں کے حالات کار بھی بہتر ہو سکیں گے۔ ان کے مطابق فری مارکیٹ اکانومی کے اصول پرعمل پیرا حکومتوں کو کارکنوں کی تنخواہوں کے مسئلے پراخبارات پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہئے لیکن الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسو سی ایشن کے صدر رضا کھرل اس سے اتفاق نہیں کرتے ان کا کہنا ہے کہ جب کسی صحافتی ادارے کے پربرا وقات آتا ہے تو سب سے پہلا اور آسان ٹارگٹ کارکن صحافی ہی کیوں بنتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اقتصادی مشکلات کی جھلک مالکان کے طرز زندگی میں کیوں دکھائی نہیں دیتی۔

رضا کھرل کو دکھ ہے کہ کمزور معاشی صورت حال کی وجہ سے صحافت کا معیاربھی پست ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو مشکل حالات میں فرائض سرانجام دینے والے کارکن صحافیوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے عملی اقدامات کرنے چاہیں۔

Anschlag auf den Presse-Klub von Peschawar

پاکستان غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاں دو لاکھ کے کیمرے کی انشورنس تو ہوتی ہے مگر اس کے ذریعے ریکارڈنگ کرنے والے انسان کی نہیں

آل پاکستان نیوز پیپرز ایمپلائز کنفیڈریشن کے سربراہ ناصر نقوی کہتے ہیں کہ حکومت کو صحافتی اداروں کو جاری کئے جانے والے سرکاری اشتہارات کو ویج بورڈ کے عملدر آمد اور کارکن صحافیوں کو تنخواہوں کی بر واقت ادائیگی کے ساتھ مشروط کر دیا جانا چاہے۔ اس وقت قریباً دو درجن کے لگ بھگ ٹی وی اور ریڈیو چینلز کے کارکنان کو بر وقت تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے۔

تنگدستی اوربے سرو سامان کے اس عالم میں بعض صحافیوں کو پرخطر جنگی حالات کی کوریج بھی کرنا پڑ رہی ہے۔ پاکستان غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لائف جیکٹ کے بغیرکام کرنے والے صحافی کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے دو لاکھ کے کیمرے کی انشورنس تو ہوتی ہے مگر اس کیمرے کے ذریعے ریکارڈنگ کرنے والے انسان کی انشورنس نہیں ہوتی۔ یاد رہے تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے لاہورکے ایک مقامی ٹی وی چینل کا ایک کارکن خوش کشی بھی کر چکا ہے۔

اس صورتحال میں صحافت کی آزادی کو خطرات لا حق ہوتے جا رہے ہیں۔ صحافتی اداروں کے مالکان سے مایوس ہو کر کئی صحافیوں نے اپنا پیٹ پالنے کے لئے سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور خفیہ اداروں کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ کالعدم عسکری تنظیموں کے جریدوں میں نام بدل بدل کرپاکستان کے کون کون سے نامور صحافی لکھ رہے ہیں۔ یہ جاننے کیلئے کسی کا افلا طون ہونا ضروری نہیں ہے۔

رپورٹ: تنورشہزاد

ادارت: عدنان اسحاق