1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پاکستانی شہری غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے کی کوشش میں گرفتار

امریکی حکام نے ایک پاکستانی شہری کو میکسیکو سے امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران حراست میں لے لیا ہے۔ یہ پاکستانی بیلجیم کے جعلی پاسپورٹ کے ذریعے امریکا میں داخل ہو رہا تھا۔

امریکی حکام نے حراست میں لیے گیے اس پاکستانی کا نام ظاہر نہیں کیا ہے تاہم بتایا ہے کہ اس نے نو ہزار ڈالر اُن اسمگلروں کو دیے، جو اسے برازیل لے گئے۔ وہاں اسے بیلجیم کا جعلی پاسپورٹ دیا گیا۔ اسی پاسپورٹ پر اس نے چار ہزار ڈالر ایک خاتون اسمگلر کو ادا کیے، جو اسے پہلے بس، پھر کشتی اور پھر پیدل کولمبیا کے ذریعے پاناما لے گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسے پاناما میں حراست میں لیا گیا تھا تاہم پھر رہا کر دیا گیا۔ تفتیش کے دوران اس پاکستانی نے امریکی حکام کو بتایا کہ پاناما میں اس نے لبنان سے تعلق رکھنے والے ایک اسمگلر کو پیسے دیے جو 35 دیگر مہاجرین سمیت اسے ہنڈورس لے گیا۔ اس پاکستانی مہاجر کا کہنا ہے کہ ہنڈورس میں اسے لوٹ لیا گیا اور اس کے پاس موجود تمام چیزیں لٹیرے چھین کر لے گئے۔

اس شخص کا کہنا ہے کہ اس نے پاکستان میں موجود اپنے اہل خانہ سے مزید پیسے منگوائے اور چالیس ڈالر کے عوض وہ اسمگل ہو کر گوئٹے مالا پہنچا، جہاں اس نے ایک اور اسمگلر کو پانچ ڈالر دیے، جو اسے میکسکیو چھوڑ گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ میکسیکو سے اس پاکستانی شہری نے ایک ٹیکسی لی اور اسی کے ذریعے وہ امریکا میں داخل ہو رہا تھا، جب اسے حراست میں لے لیا گیا اور بعد میں ٹاپاکولا کے حراستی مرکز پہنچا دیا گیا۔

Mexiko Migranten Zug USA

سینکڑوں افراد غیرقانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں

مہاجرین کا بحران: امریکا لاطینی امریکی ممالک سے مدد کا طلب گار

امریکی انتظامیہ نے ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے امریکا میں داخلے کو روکنے کے لیے لاطینی امریکا کے متعدد ممالک سے مدد طلب کر رکھی ہے۔ یہ مہاجرین جنوبی امریکا سے جہازوں، کشتیوں اور جنگلاتی راستوں سے پیدل امریکا میں داخل ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

اسی تناظر میں امریکا نے میکسیکو کی جنوبی سرحد پر بھی ایک امیگریشن مرکز قائم کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اکتوبر سن 2015ء سے اب تک غیر قانونی طریقے سے امریکا جانے کی کوشش کے دوران حراست میں لیے گئے چھ سو چالیس مہاجرین اسی ایک مرکز میں قید ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے تعلق رکھنے والے یہ مہاجرین برازیل پہنچتے ہیں، جہاں انہیں جعلی پاسپورٹ دیے جاتے ہیں۔ یہاں سے یہ مہاجرین پہلے پاناما اور پھر وسطی امریکا سے میکسیکو کے راستے امریکا پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ رواں برس کے پہلے چھ مہینوں میں ایشیا، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے چھ ہزار تین سو بیالیس مہاجرین کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق سن 2015 میں پورے سال کے دوران یہ تعداد چار ہزار دو سو اکسٹھ رہی۔ سن 2014ء میں یہ مجموعی تعداد ایک ہزار آٹھ سو اکتیس تھی۔