1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی شہریت ایکٹ میں مجوزہ ترمیم اور ردعمل

پاکستان میں سات خواتین ارکان قومی اسمبلی کی جانب سے پاکستانی شہریت ایکٹ میں ترمیم کے لیے پیش کیا گیا بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں زیر غور ہے۔

default

پاکستانی شہریت ایکٹ 1951 میں ترمیم کا بل پیش کرنے والی خواتین ارکان کا موقف ہے کہ یہ قانون خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کا موجب ہے۔

شہریت ایکٹ کی جس شق نمبر دس میں ترمیم کا بل پیش کیا گیا ہے اس کے حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی کی رکن اسمبلی اور قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی رکن بشریٰ گوہر کا کہنا ہے: ’’اگر کوئی پاکستانی مرد کسی غیر ملکی خاتون سے شادی کرتا ہے تو اس کو تو فوراً پاکستانی شہریت مل جاتی ہیں صرف اس لیے کے ان کی شادی ہو گئی ہے۔

لیکن اگر کوئی پاکستانی خاتون کسی غیر ملکی مرد سے شادی کرتی ہے، تو پاکستان کے اس قانون کے مطابق اسے پاکستانی شہریت نہیں ملتی جو کہ مناسب بات نہیں ہے۔‘‘

Demonstration für Frauenrechte in Pakistan

پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے نکالی جانے والی ایک ریلی

شہریت ایکٹ میں اس مجوزہ ترمیم کے بعد پاکستانی خواتین سے شادی کرنے والے غیرملکی مرد بھی پاکستانی شہریت حاصل کر سکیں گے۔ بشریٰ گوہر کے مطابق وفاقی شرعی عدالت نے بھی 2007ء میں اپنے ایک فیصلے میں اس شہریت ایکٹ کو اسلامی تعلیمات کے منافی اور خواتین کے ساتھ امتیازی رویے کا حامل قرار دیتے ہوئے اس میں مثبت ترمیم کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس فیصلے پر نظرثانی کی اپیل اس وقت سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے۔

ادھر پاکستان شہریت ایکٹ میں ترمیم کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی خواتین کے ساتھ شادی کے بعد غیر ملکیوں کو شہریت دینے سے متعدد مسائل جنم لیں گے۔ قائمہ کمیٹی کے ایک حالیہ اجلاس میں ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری داخلہ قمر الزمان چوہدری کا کہنا تھا کہ اس مجوزہ ترمیم سے نہ صرف ملک میں بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان میں بڑی تعداد میں غیرقانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں خصوصاً افغانیوں اور بنگالیوں کو پاکستانی شہریت کے حصول کا آسان موقع بھی ہاتھ آ جائے گا۔

Trauer um Benazir Bhutto Anhänger bei einer Kerzenzeremonie Pakistan

مقتولہ سیاستدان بےنظیر بھٹو سے پاکستانی خواتین کو بہت سی امیدیں تھیں

قائمہ کمیٹی کے اکثریتی ارکان اس ایکٹ میں ترمیم کے حامی ہیں لیکن حکمران پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اعجاز ورک اس ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’اگر پاکستانی خواتین جیسا کہ وینا ملِک یا میرا ، ان سے بال ٹھاکرےجیسا کوئی غیر ملکی شادی کر لے، تو آپ کے خیال میں کیا یہ پاکستان میں امن وامان کا کے لیے ٹھیک ہوگا؟ ‘‘

سرکاری ذرائع کے مطابق ملک کے خفیہ ادارے بھی اس ترمیم کے ذریعے غیر ملکی جاسوسوں کی ملک میں آمد کو خارج ازامکان قرار نہیں دیتے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں غربت کی شرح انتہائی بلند ہے وہاں پر پیسے کے بدلے غیرملکیوں کو شہریت دلوانے کے لیے ان سے شادیوں کا رجحان بھی بہت بڑھ سکتا ہے۔

دریں اثناء شہریت ایکٹ کی شق 16 میں بھی ترمیم کا بل قائمہ کمیٹی میں زیر غور ہے، جس کے تحت پاکستان میں پانچ سال سے زائدکے عرصے سے مقیم بنگالیوں اور بہاریوں کو پاکستانی شہریت دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس