1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی سینیٹ کی طرف سے بھی نیٹو حملے کی مذمت

جمعے کے روز پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے نیٹو حملے کے خلاف متفقہ طور پر مذمتی قرارداد کی منظوری دی ہے۔ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

default

سینیٹ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو آگے بڑھانا ممکن نہیں لگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کے لیے سامان رسد کی ترسیل پر پابندی کی منظوری وفاقی کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی نے دی ہے اور یہ پابندی عارضی نہیں ہے۔

بون کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے فیصلے پر نظرثانی کے بارے میں حنا ربانی کھر نے کہا، ’’پاکستان کے وزیراعظم اور کابینہ یقیناً اس فیصلے پر نظرثانی کر سکتے ہیں لیکن اس وقت مجھے جو نظر آ رہا ہے کہ اس وقت یہ اتنا مضبوط مقدمہ نہیں کہ اس پر نظرثانی کی جائے کیونکہ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم جب تک اپنے مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتے تو ہم کسی اور عمل کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں۔‘‘

Parlament in Pakistan Islamabad

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے نیٹو حملے کے خلاف متفقہ طور پر مذمتی قرارداد کی منظوری دی ہے

ادھر قبائلی علاقے پر نیٹو افواج کے فضائی حملے اور میمو گیٹ اسکینڈل کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال پر غور کے لیے پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ سترہ رکنی کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے خصوصی طور پر شرکت کی جبکہ فوجی حکام نے کمیٹی کے ارکان کو نیٹو افواج کے حملے کے بارے میں بریفنگ دی۔

ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل اشفاق ندیم نے شرکاء کو مغربی سرحدوں کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ اس اجلاس میں پاکستان کے بون کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے حتمی فیصلہ بھی کیا جائے گا۔

پاکستان کی جانب سے سرکاری طور پر امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی اس خبر پر ردعمل سامنے نہیں آیا جس میں کہا گیا تھا کہ مہمند ایجنسی میں نیٹو حملے سے پہلے پاکستانی حکام سے اجازت لی گئی تھی۔

حکومتی اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی عدیل نے وال اسٹریٹ کی اس خبر پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’میرا خیال نہیں کہ ایسی کوئی اطلاع دی گئی ہے۔ لیکن فرض کریں وہ کہتے ہیں کہ ایسی اطلاع دی ہے تو ہم یہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ آپ جو تحقیقات کر رہے ہیں اس میں ہمیں شامل کریں۔ وہ کہتے ہیں جی تحقیقات ہم خود کریں گے، آپ کو شامل بھی نہیں کریں گے اور جو اس کے نتائج ہوں گے وہ بھی آپ کو نہیں بتائیں گے تو پھر یہ کیسی تحقیقات ہیں؟ سچی بات تو تب پتا چلے گی کہ جب اس تحقیقات میں ہمارا بھی کوئی نمائندہ شامل ہو اور وہ پتہ چلے کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ہے۔‘‘

دریں اثناء امریکی سینیٹ کی جانب سے پاکستان کی فوجی امداد کو مشروط کرنے کے حوالے سے بل کی منظوری پر پاکستان کے سیاسی و سفارتی حلقوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دفاعی تجزیہ نگار غلام مجتبیٰ کا کہنا ہے کہ اس امریکی اقدام سے دونوں ملکوں کے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو گا۔

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت: حماد کیانی

DW.COM