1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی سیلاب زدہ علاقوں میں رہائشی مسائل

پاکستان میں موسم سرما کا آغاز اب زیادہ دور نہیں لیکن لاکھوں سیلاب زدگان کے لئے نئی مشکلات اور آزمائشوں کے آثار ابھی سے واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

default

سیلابی متاثرین کے عارضی رہائشی کیمپ

ملکی تاریخ کے بد ترین سیلاب سے تباہ ہونے والے پانچ لاکھ مکانات کی دوبارہ تعمیر سے متعلق زیادہ تر منصوبے ابھی تک کوئی عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے سیلاب زدگان اپنے اہل خانہ اور مویشیوں کے ہمراہ ابھی تک کھلے آسمان کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

حالیہ سیلاب نے پنجاب میں ایک ہزار سات سو اسی بڑے دیہات کو مکمل تباہی سے دوچار کر دیا تھا۔ حکومت نے ابتدائی طور پر دو سو چار مثالی گاؤں تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کئی غیر سرکاری تنظیمیں بھی ان دیہات میں مکانات کی تعمیر میں مصروف ہیں۔ لیکن سیلاب زدہ علاقوں میں زیادہ تر لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ہی کم لاگت والے، غیر معیاری اور کچے مکانات بنانے میں مصروف ہیں۔

Pakistan nach der Flut

بہت سے متاثرین ابھی تک امداد کے انتظار میں ہیں

ان دیہی رہائش گاہوں کی تعمیر میں تعمیراتی ضابطوں کا بھی کوئی خیال نہیں رکھا جا رہا۔ بعض مقامات پر لوگ حکومتی مدد کے انتظار میں عارضی خیموں میں رہائش اختیار کئے ہوئے ہیں، جہاں ساتھ ہی کھلے آسمان کے نیچے ان کے مویشی بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

قدرتی آفات کے مقابلے کے لئے قائم کئے جانے والے صوبائی محکمے پروونشل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ خالد شیردل کے مطابق پنجاب میں دو سو چار مقامات پر نجی شعبے کے تعاون سے جو گاؤں تعمیر کئے جا رہے ہیں، ان میں صاف پانی کی فراہمی، نکاسیء آب، صحت، تعلیم، شمسی توانائی کے پلانٹس،پکی سڑکوں اور کمیونٹی سینٹر جیسی سبھی سہولیات موجود ہوں گی۔ ان کے مطابق سو گھروں والے ایسے ایک گاؤں کی تعمیر پر قریب تین کروڑ روپے لاگت آرہی ہے۔

Pakistan nach der Flut

سیلاب نے پنجاب میں 1780 بڑے دیہات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا

جنوبی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں سیلاب زدگان کو مکانات تعمیر کر کے دینے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر آصف محمود کہتے ہیں کہ مکانات کی تعمیر کے بیشتر منصوبے ابھی کاغذوں ہی میں ہیں۔ ان کے مطابق مکانات کی تعمیر میں تاخیر کی وجہ سے سیلاب زدہ علاقوں میں کھلے آسمان کے نیچے سونے والے بچوں میں سردی کے باعث مختلف بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔

ضلع لیہ کے صادق نامی ایک شخص نے بتایا کہ اسے تو ابھی تک حکومت کی وعدہ کردہ مالی امداد بھی نہیں ملی، اسے مکان کون دےگا؟ صادق کے بقول چند منتخب لوگوں کے لئے مثالی دیہات کی تعمیر دیگر سیلاب زدگان میں احساس محرومی کا سبب بنے گی۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس