1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی سیلاب زدگان کے لیے بہت کچھ ہونا باقی ہے،اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نےعالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ پاکستان میں آنے والے حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے ایک بلین ڈالر کی امدادی رقم مہیا کی جائے۔

default

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ گزشتہ سال پاکستان میں آنے والے سیلاب کے بعد سے ابھی تک وہاں کی صورتحال میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی ہے۔ پاکستان کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب Rauf Engin Soysal کے بقول،' پاکستان میں ہنگامی صورتحال ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ وہاں ابھی بہت کچھ کرنے کو باقی ہے۔'

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق گزشتہ سال ستائس جولائی سے شروع ہونے والے سیلابی سلسلے کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار نو سو پچاسی افراد ہلاک جبکہ ایک اعشاریہ آٹھ ملین بے گھر ہو گئے تھے۔ قریب دو ماہ تک جاری رہنے والی اس قدرتی آفت کے نتیجے میں 1.74 ملین مکانات بہہ گئے جبکہ 2.24 ملین ہیکٹر زرعی ارضی شدید متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں خوراک کی کمی کے خطرات پیدا ہو چکے ہیں۔

Pakistan Flut Katastrophe 2010 Flash-Galerie

اس قدرتی آفت کے نتیجے میں 1.74 ملین مکانات بہہ گئے

اقوام متحدہ نے پاکستان میں وسیع پیمانے پر پھیلنے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری سے دو بلین ڈالر کی امدادی رقم کی اپیل جاری کی تھی، جس میں سے ایک بلین ڈالر کی رقم دستیاب کی جا چکی ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے Soysal کے حوالے سے بتایا،' نصف مالی امداد حاصل ہو چکی ہے لیکن ہم چاہتے ہیں باقی یعنی ایک بلین ڈالر کی رقم جلد ازجلد دستیاب کی جائے، جس کی بالخصوص بحالی کے کاموں کے آغاز کے لیے فوری طور پر ضرورت ہے۔‘

ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی ایک بڑی تعداد ابھی بھی امداد کی منتظر ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشہ برس دسمبرتک پانچ ملین افراد کو مالی مدد فراہم کی جا چکی ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے سے سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے ابتدائی کام شروع کر دے گا۔ اس مرحلے کے دوران قریب ڈیڑھ لاکھ متاثرین کے لیے عارضی پناہ گاہوں کا انتظام کیا جائے گا۔

Pakistan Flut Katastrophe 2010 Flash-Galerie

اطلاعات کے مطابق پاکستان میں سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی ایک بڑی تعداد ابھی بھی امداد کی منتظرہے

دوسری طرف مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان بالخصوص اندرون سندھ میں سیلاب زدگان کے لیے ناکافی مدد اور غربت جاگیردارانہ نظام میں جکڑے عوام کو انتہا پسندی کی طرف راغب کر سکتی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM