1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی سیلاب زدگان کے لئے بین الاقوامی کوششیں ناکافی

اقوام متحدہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو حالیہ سیلابوں کی صورت میں تاریخ کی سب سے بڑی قدرتی آفت کا سامنا ہے اور اس سے نمٹنے کےلئے اب تک کی جانے والی کوششیں نا کافی ہیں۔

default

پاکستان میں سیلابوں کے نتیجے میں ہونیوالی تباہی کا اندازہ لگانے اور ریلیف کے کاموں کی نگرانی کےلئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے خصوصی نمائندہ جیم مورس رپیرٹ نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حالیہ سیلابوں سے 2005ء میں آنے والے زلزلے کے مقابلے میں چار گنا زیادہ علاقہ متاثر ہوا ہے۔ مزید یہ کہ اس سیلاب میں ہونے والی تباہی 2005ءکے سونامی سے بھی زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلابوں سے اب تک 2 لاکھ 90 ہزار مکانات تباہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوری امدادی کاموں کےلئے لاکھوں ڈالر جب کہ تعمیر نو اور بحالی کے طویل المدتی منصوبے کے لئے اربوں ڈالر زدرکار ہونگے۔

Pakistan Flut Katastrophe 2010 Flash-Galerie

"سیلاب سے پنجاب میں80 لاکھ ، خیبر پختونخواہ میں 47 لاکھ اور سندھ میں 11 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔"

اس موقع پر پاکستان میں اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر مارٹن مگوانجا نے کہا کہ ابھی تک اقوام متحدہ نے اپنے ایمرجنسی فنڈز سے پاکستان کو 10 ملین ڈالر امداد دی ہے اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کو مختلف ممالک اور امداد دینے والے اداروں سے 26 ملین ڈالر موصول ہوئے ہیں جبکہ 67 ملین ڈالرز کی مزید امداد مہیا کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت اصل چیلنج سیلاب کے نتیجے میں پُھوٹنے والی بیماریوں خصوصا ہیضے کی وبا پر قا بو پانا ہے۔ انکے بقول اگر ان بیماریوں پر قابو نہ پایا گیا تو ان کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

مارٹن مگوانجا نے مزید کہا کہ پاکستان میں سیلابوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو دیکھتے ہوئے ریلیف آپریشن میں تیزی لانے کی ضرورت ہے اور ہماری تمام ڈونرز ممالک اور اداروں سے اپیل ہے کہ وہ اس کام کی تکمیل تک اقوام متحدہ کا ساتھ دیں۔

Pakistan Flut August 2010

صوبہ سندھ میں سیلاب کے ہاتھوں اپنا سب مال اسباب لٹانے والی ایک خاتون۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک سیلاب سے پنجاب میں80 لاکھ ، خیبر پختونخواہ میں 47 لاکھ اور سندھ میں 11 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ سیلابی ریلہ ابھی سندھ سے گزر رہا جس سے مزید نقصان کا خدشہ ہے۔

مارٹن مگوانجا نے بتایا کہ ابھی تک امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے امداد موصول ہوئی ہے۔

اس موقع پر توقعات کے بر عکس اقوام متحدہ کی جانب سے ابھی تک کسی مخصوص رقم کے لئے بین الاقوامی برادری سے مدد کی اپیل نہیں کی گئی۔

دریں اثناءاسلام آباد میں قائم مختلف ممالک کے سفارت خانوں میں ایسی تقریبات کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے جن میں سیلاب زدگان کی امداد کے لیے چھوٹے پیمانے پر اشیاء متاثرہ علاقوں میں بھجوائی جا رہی ہیں۔ لیکن اس بات کا جواب نہیں مل پا رہا کہ آخر اتنی بڑی تباہی کے باوجود بین الاقوامی برادری کا ردعمل اتنا سست کیوں ہے۔

رپورٹ : شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت : افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس