1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی سیلاب زدگان :غیر ملکی امداد سست رفتار

پاکستان میں سیلاب زدگان کی امداد کے لیے کام کرنے والے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی برادری نے امداد کی فراہمی تیز نہ کی، تو امدادی کام بند ہونے کے ساتھ ساتھ لاکھوں انسانی جانوں کو لاحق خطرات بھی بڑھ جائیں گے۔

default

عالمی خوراک  پروگرام کے مطابق پاکستان میں سیلاب کے متاثرین کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور انہیں مطلوبہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ ڈبلیو ایف پی کے ڈپٹی ایگزیکٹو روماریو لوپز ڈی سلوا کا کہنا ہے کہ سندھ میں سیلاب کے متاثرین کی تعداد نواسی لاکھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ 11 اضلاع میں کیے گئے سروے کے مطابق وہاں ہنگامی بنیادوں پر خوراک کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے سڑکوں کی توڑ پھوڑ اور انفراسٹرکچر تباہ ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

Überflutung in Pakistan Flash-Galerie

گزشتہ سال کی نسبت اس مرتبہ بین الاقوامی برادری کی طرف سے متاثرین کی مدد کا عمل سست روی کا شکار ہے

مسٹر ڈی سلوا کے مطابق ان کا ادارہ لوگوں کو بھوک سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے لیکن صورتحال زیادہ حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’زندگیاں بچانے کو ترجیح دیتے ہوئے ہم اپنے وسائل کا رخ موڑ رہے ہیں۔ لیکن ہم ایسا صرف ایک مختصر وقت کے لیے ہی کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد ہمیں متاثرین کی مدد کے لیے نئے وسائل کا بہاؤ درکار ہوگا۔‘

خیال رہے کہ پاکستانی وزارت صحت کی جانب سے حال ہی میں کیے گئے  قومی غذائی سروے کے مطابق ملک کی 60 فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے اور سیلاب سے متاثرہ صوبہ سندھ میں بچوں اور خواتین کی اکثریت کو غذائی قلت کا سامنا ہے۔

Flash-Galerie Pakistan Überschwemmungen

عالمی خوراک پروگرام کے مطابق پاکستان میں سیلاب کے متاثرین کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے

ادھر قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کا بھی کہنا ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت اس مرتبہ بین الاقوامی برادری کی طرف سے متاثرین کی مدد کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ تاہم ادارے کے ترجمان احمد کمال نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ حکومتی اداروں میں کرپشن کے سبب بین الاقوامی برادری پاکستان کی مدد کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ وہ اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے متاثرین کی مدد کرے۔

احمد کمال نے کہا، ’اصل معاملہ یہ ہے کہ ان کی بحالی، ان کے طرز زندگی کی، کہ جس جگہ سے وہ آئے ہیں، وہاں پر جائیں، یہ مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو گاجب تک زمین پر پانی کھڑا ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ معاملہ بہت تشویشناک ہے ، جو آگے جا کر مزید شدید اور خطرناک ہو جائے گا‘۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ متاثرین سیلاب کی مشکلات اپنی جگہ لیکن حکومتی اداروں میں کرپشن کے سبب بین الاقوامی برادری نقد امداد دینے پر امادہ نظر نہیں آتی جبکہ حکومت کی جانب سے بھی عطیات دہندہ ممالک اور اداروں کو ایسی کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہو  کہ  ا س امداد کو مکمل طور پر شفاف طریقے سے استعمال کیاجائے گا۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

 

DW.COM