1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی سیلاب زدگان ابھی بھی امداد سے محروم

پاکستان میں گزشتہ ایک صدی کے بدترین سیلاب کے پانچ ماہ بعد بھی امدادی تنظیمیں تمام متاثرہ علاقوں میں امداد نہیں پہنچا سکی ہیں۔ پاکستان ابھی تک اس سیلاب کی تباہی و بربادی کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکا۔

default

سیلاب سے 20 ملین افراد متاثر ہوئے

برسلز میں فلاحی امداد کی یورپی کمشنر کرسٹیلینا جورجیوا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے 20 ملین افراد متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق متاثرین کو امداد نہ ملنے کے ذمہ دار مقامی ادارے ہیں۔ بہت ساری فلاحی تنظیموں سے وابستہ افراد اور ڈاکڑ دور درازعلاقوں تک امداد پہنچانا چاہتے ہیں، لیکن مقامی اداروں کی طرف سے انہیں وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ پاکستان میں آنے والے سیلاب کا شمار دنیا بھر میں رواں برس آنے والی بڑی آفتوں میں ہوتا ہے۔ یورپی یونین کے کمیشن اور اس کے 27 رکن ملکوں نے پاکستان کو ہنگامی طور پر چار سو پچاس ملین یورو کی امداد فراہم کی۔ یورپ میں سب سے زیادہ امداد جرمنی، برطانیہ اور سویڈن نے دی۔

صرف یورپی یونین کے کمیشن کی طرف سے ایک سو پچاس ملین یورو مہیا کئے گئے۔ جورجیوا کا کہنا ہے کہ پاکستان کو 2011ء میں مزید 50 ملین یورو کی امداد دی جائے گی۔

Dossierbild Pakistan Flut 2

امداد نہ ملنے کے ذمہ دار مقامی ادارے ہیں

انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت کو بھی اس بات کی فکر کرنی چاہئے کہ متاثرین کی بحالی اور امداد حکومتی سیاسی ایجنڈے پر سب سے پہلے نمبر پر ہو۔ جورجیوا نے پاکستانی رہنماؤں کو اس بات سے خبردار کیا کہ یورپی یونین کی طرف سے مزید مدد صرف اسی صورت میں ملے گی، جب مقامی حکام کو باہمی تعاون پر مجبور کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف تو پاکستان کے مغربی علاقوں میں سیلاب کی وجہ سے فصلیں نہیں اگائی جا سکتیں جبکہ دوسری طرف انتہا پسند گروپ حکومت کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کو اس وقت دو بحرانوں کا سامنا ہے۔ ایک طرف تو سیلاب کی مشکلات سے نمٹنا جبکہ دوسری طرف مسلح گروپوں کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ پاکستان سے یورپی یونین نے کئی مرتبہ مطالبہ کیا ہے کہ امدادی تنظیموں کو درپیش مشکلات دور کی جائیں اور اس کے بدلے پاکستانی مصنوعات کی یورپی یونین کو برآمد آسان بنا دی جائے گی۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس