1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی سیلاب اور غیر ملکی امدادی کارکنوں کی خدمات

پاکستانی تاریخ کے بد ترین سیلاب کے بعد ملک میں کئی ملین متاثرین کی مختلف طریقوں سے مدد کرنے والوں میں یورپ، امریکہ، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں چالیس سے زائد ملکوں کے امدادی کارکن شامل ہیں۔

default

بین الاقوامی برادری نے ایک طرف اگر پاکستان کو اربوں مالیت کی امداد مہیا کی ہے، تو دوسری طرف بیرونی ملکوں سے آئے ہوئے سینکڑوں امدادی کارکن پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کو ادویات، اشیائے خوراک اور دیگر ضروری سامان بھی فراہم کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور ہالی وڈ کی ممتاز فنکارہ انجلینا جولی کے علاوہ کئی دیگر بین الاقوامی شخصیات نے بھی سیلابی متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لئے مختلف سیلاب زدہ علاقوں کے دورے بھی کئے۔

بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے سیلاب زدہ علاقوں میں فلاحی خدمات انجام دینے والی ایک بڑی غیر سرکاری تنظیم الخدمت فاونڈیشن پاکستان کے سیکریٹری جنرل احسن علی سید بتاتے ہیں کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے علاوہ جرمنی، برطانیہ، امریکہ، مصر، ترکی، سعودی عرب، چین، دبئی، ملائیشیا، سری لنکا اور آسٹریلیا سمیت کئی ملکوں سے آئے والے سینکڑوں امدادی کارکنوں نے سیلاب زدگان کی خدمت کی ہے۔

Fluthelfer der Falah-e-Insaniyat Foundation in Pakistan bei Austeilen von Essen an Lager-Bewohner

ملکی اورغیر ملکی امدادی کارکنوں کی خدمات جاری

ایک درجن سے زائد غیر ملکی کارکنوں نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی زبان سے عدم واقفیت، وسائل کی کمی، مستحقین کی تلاش میں دقت، دور دراز کے علاقوں میں امدادی اداروں میں رابطوں کا فقدان اور امدادی اشیا کی تقسیم میں بدنظمی وہ بڑے مسائل ہیں، جن کا انہیں حالیہ سیلاب کے دوران اور اس کے بعد سامنا کرنا پڑا ہے۔

سری لنکا سے آئے ہوئے محمد رفیق نے بتایا کہ جنوبی پنجاب کے ایک گاوں میں وہ امدادی اشیا تقسیم کرنے گئے تو وہاں موجود ہزاروں لوگوں نے امدادی اشیا کے حصول کے لئے ان پر دھاوا بول دیا۔ یہ صورتحال دیکھ کر انہوں نے مقامی ساتھیوں کے مشورے سے کسی دوسرے متاثرہ علاقے میں جانے کا فیصلہ کیا۔

Indien Flut September 2010

جتنا بڑا سانحہ ہے اتنی ہی زیادہ امداد کی ضرورت ہے

وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گاڑیوں میں سوار ایک دوسرے مقام پر جا رہے تھے کہ پیچھے مڑ کر دیکھنے پر معلوم ہوا کہ وہ ہزاروں لوگ موٹر سائیکلوں، گدھا گاڑیوں پر اور پیدل دوڑتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے چلے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں ایسے مناظر ظاہر کرتے ہیں کہ یہ جتنا بڑا سانحہ ہے اتنی ہی زیادہ امداد کی وہاں ضرورت ہے۔

جاپان سے آئی ہوئی ایک خاتون آئیزاوا نے بتایا کہ دکھی انسانیت کی خدمت نے حالیہ سیلاب کے دوران مختلف ملکوں کے لوگوں کو خدمت خلق کے جذبے کی ایک ہی لڑی میں پرو دیا ہے۔

لبنان کے ڈاکٹر حذیفہ کا کہنا تھا کہ ایک ایسے مریض کا علاج کرنا جس کے پیٹ میں روٹی اور پاوں میں جوتے بھی نہ ہوں، ان کے لئے بڑا تکلیف دہ تجربہ تھا۔

مرسی ملائیشیا کے ریلیف ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ مسٹر ھیو نے بتایا کہ سیلاب زدگان کے لئے کام کرنے والی سرکاری تنظیموں کو اپنے باہمی رابطے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

شارجہ چیریٹی فاونڈیشن کے عبید اور مصر سے آئے ہوئے ڈاکٹر عبدالرحمن کا کہنا تھا کہ مصیبت میں گھرے ہوئے لوگوں کی مدد کرنا ان کے لئے ایک بہت خوشگوار تجربہ ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت:عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس