1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی سیاسی ثقافت میں غیر پارلیمانی زبان کی یلغار

پاکستان کی قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر برائے دفاع اور توانائی خواجہ آصف کی طرف سے بدھ کے روز پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری کے خلاف استعمال کیے گئے نا مناسب الفاظ شور شرابہ آج جمعرات کے روز بھی جاری رہا۔

Pakistan Verteidigungsminister Khawaja Muhammad Asif

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف

جس وقت ایوان میں یہ شور شرابہ ہو رہا تھا، اسی وقت پاکستانی نجی ٹی وی چینلز اس وفاقی وزیر کو سیالکوٹ کی ایک نہر میں غوطہ مارتے ہوئے دکھا رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ یہ وزیر دفعہ 144کی خلاف وزری کر رہے ہیں، جس کے تحت نہر میں نہانے پر پابندی تھی۔

پاکستانی پارلیمان کے ایوان زیریں میں آج جمعرات نو جون کو بھی پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے پر زور احتجاج کیا۔ اسپیکر نے ایوان کو بتایا کہ خواجہ آصف نے تحریری طور پر معافی مانگی ہے۔ انہوں نے خواجہ آصف کے اس خط کو ایوان میں پڑھ کر سنایا، جو انہوں نے بھیجا تھا۔ لیکن پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے اس خط کو مسترد کر دیا۔

شیریں مزرای نے کہا کہ خواجہ آصف کو ایوان میں آ کر معافی مانگنا چاہیے۔ بعد ازاں خواجہ آصف نے ایوان میں آ کر شیریں مزاری کا نام لیے بغیر معافی مانگی، جسے پی ٹی آئی کے اراکین نے ایک بار پھر مسترد کر دیا اور احتجاجاﹰ حزب اختلاف کی دیگر پارٹیوں کے ساتھ ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔

تجزیہ نگاروں کے خیال میں پاکستانی سیاسی رہنماؤں کی طرف سے ایوان میں نامناسب الفاظ کا استعمال کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ روایت کئی دہائیوں سے چلی آ رہی ہے۔ معروف تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’پاکستان میں اس طرح کی زبان کا استعمال بھٹو دور میں شروع ہوا۔ انہوں نے اپنے مخالفین کو مختلف القابات سے نوازا، جیسے کہ وہ اصغر خان کو آلو کہتے تھے۔ پھر پاکستان قومی اتحاد نے بھی بھٹو کے لیے نازیبا الفاظ استعما ل کیے، جیسے کہ ’گنجے کے سر پر ہل چلے گا‘ وغیرہ۔‘‘

ڈاکٹر مبارک علی نے مزید کہا، ’’تب جماعت اسلامی کے حامی لوگوں نے اس میں مزید بد تہذیبی پیدا کی تھی، جب انہوں نے ناشائستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو کی والدین پر دشنام طرازی کی اور ان پر بیہودہ الزامات لگائے گئے تھے۔‘‘

Pakistan Parlament Nationalversammlung in Islamabad

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاستدانوں کی طرف سے غیر پارلیمانی زبان کا استعمال نیا نہیں ہے

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’ایوب خان نے عوامی جلسوں میں غیر شائستہ زبان استعما ل نہیں کی۔ تاہم انہوں نے اپنی ڈائری میں، جو بعد میں چھپی بھی تھی، بنگالیوں کے خلاف تحقیر آمیز زبان استعمال کی تھی۔ ضیا دور میں اس طرح کی زبان کم ہی استعمال کی گئی تھی کیونکہ اس دور میں جلسے جلوسوں اور سیاسی اجتماعات پر پابندی تھی۔ اس لیے تب ایسی زبان استعمال نہیں ہوسکتی تھی۔‘‘

ڈاکٹر مبارک علی نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ سیاسی رہنما اپنے سامعین کو خوش کرنے کے لیے عوامی سطح پر آ کر بات کرتے ہیں تاکہ ان کے لیے تالیاں بجائی جا سکیں اور ان کے مخالفین کا تمسخر اڑایا جا سکے۔ ’’چونکہ ہمارے سیاست دانوں کو پڑھنے پڑھانے کا شوق نہیں ہے، اس لیے ان کو تنقید کے باادب طریقے نہیں آتے۔ ادب پڑھنے سے آپ کے پاس الفاظ کا ذخیرہ جمع ہوتا ہے، جس سے آپ کو الفاظ منتخب کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ جو سیاست دان اردو میں نامناسب الفاظ استعمال نہیں کرتے، وہ انگریزی میں اس طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔‘‘

اسی بارے میں رکن قومی اسمبلی سید آصف حسنین نے کہا، ’’یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ سیاست دان، جو عوام کے آئیڈیل ہوتے ہیں، وہ اس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ عوام اپنی محنت کی کمائی سے ٹیکس دے کر ہمیں ایوان میں اس لیے بھیجتے ہیں کہ ہم ان کے مسائل حل کریں۔ لیکن جب عوامی نمائندے عوام کے مسائل پربات نہیں کریں گے، تو ایوان میں اسی طرح کی باتیں ہوں گی۔‘‘

ایک اور سوال کے جواب میں سید آصف حسنین نے کہا، ’’غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے پر اگر کسی رکن اسمبلی کو نا اہل قرار نہیں دیا جا سکتا تو کم از کم اس کو معطل ضرورکیا جانا چاہیے تاکہ وہ دوبارہ ایسی زبان استعمال کرنے سے اجتناب کرے۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کو اپنی تنظیموں میں بھی ایسا طریقہ کار اپنانا چاہیے جس کے ذریعے وہ ایسے ارکان کا احتساب کر سکیں، جو غیر شائستہ زبان استعمال کرتے ہیں۔ سب سے پہلے پارٹی رہنماؤں کو اپنی اصلاح کرنا چاہیے۔ خواجہ آصف نے اس طرح کی زبان پی ٹی آئی کی رہنما کے خلاف استعمال کی ہے، جو قابل مذمت ہے ۔ لیکن عمران خان نے بھی اس طرح کی غیر پارلیمانی زبان کے استعمال کے رجحان کو بڑھانے میں ایک کردار ادا کیا ہے، جسے قطعی طور پر مثبت نہیں کہا جا سکتا۔‘‘

DW.COM