1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستانی سیاست میں نئی صف بندیاں

صدر پرویز مشرف کی مخالفت میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون دونوں ہی پارٹیاں ملک میں جمہوریت کی بحالی کی تحریک میں کندھے سے کندھا ملا کر چلتی رہیں ۔

default

کہتے ہیں کہ سیاست میں دوستیاں اور دشمنیاں حتمی نہیں ہوتیں۔ کل کے سیاسی حلیف آج کے حریف بھی ہو سکتے ہیں اور میدان سیاست میں آج دشمن تصور کئے جانے والے لوگ آنے والے کل کے سیاسی ماحول میں ایک دوسرے کے دوست بھی ہو سکتے ہیں۔ بالکل یہی کچھ اس وقت پاکستانی سیاست میں بھی دیکھنے میں آرہا ہے۔

18 فروری کے انتخابات کے بعد ماضی میں ایک دوسرے کی شدید مخالف رہنے والی جماعتیں، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) ایک دوسرے کے اتنا قریب آ گئی تھیں کہ ان کے ماضی پر نظر رکھنے والے لوگ حیر ت زدہ ہو گئے۔

صدر پرویز مشرف کی مخالفت میں یہ دونوں جماعتیں جمہوریت کی بحالی کی تحریک میں کندھے سے کندھا ملا کر چلتی رہیں۔ بے نظیر بھٹو کی وفات کے بعد کبھی جیالے نواز شریف کے گلے لگ کر روتے نظر آئے اور کبھی آصف علی زرداری نواز شریف کے والد کی قبر کے سرہانے تلاوت کرتے ہوئے دکھائی دئیے۔ تاہم سیاسی محبتوں کا یہ سفر کچھ زیادہ دیر پا ثابت نہ ہو سکا۔

بدھ کے روز پاکستان کے حکمراں اتحاد میں شامل رہنے والی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے حتمی طور پر اپنی راہیں جدا کر لیں ۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے مسلم لیگ (ن) کے مستعفی ہونے والے وزرا ء کے استعفے منظور کر لئے اور مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں حزب اختلاف کی نشستوں پر بیٹھنے کا اعلان کر دیا۔

لاہور میں مسلم لیگ کے مرکزی دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما چوہدری نثار علی خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اب آنے والے دنوں میں حکومت کو ان کی جماعت کی طرف سے غیر مشروط تعاون میسر نہیں رہے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپو زیشن بنچوں پر بیٹھ کر حکومت کو گرانے کی سیاست نہیں کریں گے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے اسپیکر قومی اسمبلی کو ایک درخواست دے رکھی ہے جس میں چوہدری نثار علی خان کو نیا قائد حزب اختلاف مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ملکی مفاد کے معاملات میں پیپلز پارٹی کے ہر اچھے اقدام کا ساتھ دیا جائے گا۔ لیکن اگر یہ حکومت پٹڑی سے اتری تو اسے ایک سخت گیر حزب مخالف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

چوہدری نثار علی خان نے مطالبہ کیا کہ معزول جج بحال کئے جائیں اور پارلیمان کے ساتھ مشورے سے کشمیر اور فاٹا کے بارے میں نئی قومی پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) چاہتی ہے کہ ملک میں پارلیمانی نظام بحال کیا جائے اور حکومت مہنگائی سے ستائے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کے لئے فوری اقدامات کرے۔

ادھر پیپلز پارٹی کے رہنما اور گورنر پنجاب سلمان تاثیر بدھ کی سہ پہر مسلم لیگ (ق)، جسے آصف علی زرداری قاتل لیگ کہتے رہے ہیں، کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے گھر گئے اور ان سے صوبے میں کسی ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے تعاون کی درخواست کی۔ اس موقع پر وہاں موجود سابق وزیر اعلیٰ پنجاب، چوہدری پرویز الہیٰ نے گورنر پنجاب کو بتایا کہ ان کی پارٹی باہمی مشاورت کے بعد ہی اس بارے میں کوئی فیصلہ کر سکے گی۔

بعض سیاسی مبصرین کا خیال کہ تازہ ملکی صورتحال میں نواز شریف کی مسلم لیگ اور آل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے قریب آنے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔