1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی سیاست اور رازوں کو افشاء کرنے کی دھمکیوں کا رجحان

جمعیت علماء اسلام (سمیع الحق گروپ) کے رہنما مولانا سمیع الحق نے سابق صدر زرداری کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے مدرسوں کے خلاف غیر مناسب زبان کا استعمال بند نہ کیا تو مولانا سابق صدر کے راز فاش کر دیں گے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی سیاسی رہنما نے اپنے مخالف کے رازوں کو عام کرنے کی دھمکی دی ہے بلکہ کچھ مہینے پہلے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے بھی پی پی پی کو ڈاکڑ عاصم کی ویڈیو منظرِ عام پر لانے کی دھمکی دی تھی اور جب یہ ویڈیو منظرِ عام پر لائی گئی تو پیپلز پارٹی نے اس کا ذمہ دار وفاقی وزیرِ داخلہ کو ٹھہرایا تھا۔ اس کے علاوہ گزشتہ برسوں میں کچھ زیر حراست قیدیوں کے بھی ویڈیو بیانات کو منظرِ عام پر لایا گیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ سب کچھ اس لیے کیا گیا کی ملک کی غیر سیاسی قوتیں، ان وڈیوز کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی تھی۔

کئی سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ رازوں سے پردہ اٹھانے کی دھمکی پاکستان کے سیاسی کلچر میں نئی نہیں ہے۔ معروف سیاسی مبصر اور پاکستان کی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے ڈاکڑ مہدی حسن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’یہ روایت ایوب خان کے دور سے شروع ہوئی تھی، جب فوجی آمر نے سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے لوگوں کے رازوں کو دستاویزی صورت دے کر اپنے پاس رکھنا شروع کیا تھا اور ان کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ اس کی حمایت کریں۔ اِس کو معراج جنرل ضیاء کے دور میں حاصل ہوئی، جب کرپٹ عناصر کو سیاست میں داخل کیا گیا۔ اس کے علاوہ اس کا سب سے زیادہ استعمال اسٹیبلشمنٹ نے کیا، جو ہمیشہ ہی سیاست دانوں کی فائلیں مرتب کرتی ہے اور پھر سیاسی جماعتوں کو توڑنے کے لیے ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی جماعتیں ان برائیوں سے ماوراء ہیں۔ وہ بھی اپنے مخالفین اور ان کے تجارتی راز اپنے پاس رکھتی ہیں اور ان کو وقت پڑنے پر استعمال کرتی ہیں۔‘‘

سینیٹر عثمان کاکڑ ڈاکڑ صاحب کی اس رائے سے متفق نظر آتے ہیں۔ ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا۔’’یہ سکیورٹی اداروں کا کام نہیں کہ وہ سیاست دانوں کی فائلیں بنائیں اور پھر ان کو مجبور کریں کہ وہ کنگ پارٹی میں شمولیت اختیار کریں۔ ہماری پارٹی کے لوگوں کو بھی ضیاء اور مشرف نے مجبور کیا کہ وہ ان کی غیر قانونی حکومتوں کو مانیں لیکن ہم نے ان کی آمریتوں کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے ہمارے خلاف کفر کے فتوے لگوا ئے اور مولویوں کو ہمارے خلاف استعمال کیا۔ اس کے علاوہ ہمارے علاقوں میں قبائلی بنیادوں پر لڑائیاں کرائیں لیکن وہ ہم کو جھکا نہیں سکے۔ انٹیلیجنس ایجنسیوں نے اسی طرح کاروباری حضرات کی بھی فائلیں بنائیں اور ان کو مجبور کیا کہ وہ پنڈی کی من پسند جماعت کو پیسے دیں۔ اس عمل کو رکنا چاہیے۔ جس نے غلط کام کیا ہے۔ اس کو سزا ملنی چاہیے۔ اس کو دوسری پارٹی میں بھیج کر اس کے گناہوں کو دھونا نہیں چاہیے۔ مولانا سمیع کے پاس اگر ثبوت ہیں تو وہ سامنے لے کر آئیں،دھمکی دے کر وہ کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔‘‘
ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکڑ فاروق ستارنے ڈی ڈبلیوکو بتایا، ’’سب سے پہلے انسان کے ایسے راز ہونے ہی نہیں چاہییں اور وہ بھی مولوی کے ہاتھ میں۔ اگر سمیع الحق کے پاس راز ہیں، جو قومی مفادات کے خلاف ہیں تو انہیں وہ پہلے ہی افشاء کر دینے چاہیے تھے۔ میرے خیال میں سمیع الحق کو اس طرح کی دھمکی نہیں دینی چاہیے کیونکہ زرداری صاحب نے صرف تحفظات کا اظہار کیا تھا۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’ہماری پارٹی کے لوگ کبھی کرپشن میں ملوث ہی نہیں رہے، جو ان کی کوئی فائل بنا کر انہیں بلیک میل کرے۔ میرے خیال میں اس طرح کی کوئی اگر دھمکی دیتا ہے تو ریاست کو اس کے خلاف ایکشن لینا چاہیے تاکہ اس قسم کی رجحان کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔‘‘
وفاقی اردو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکڑ توصیف احمد نے اِس پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے کہا، ’’صرف آمروں ہی نے نہیں بلکہ جمہوری رہنماؤں نے بھی اس طرح کی فائلیں مرتب کیں اور ان کو استعمال کیا۔ بھٹو صاحب نے تو اپنے ساتھیوں کی بھی فائلیں بنوائی تھیں اور پھر ضیاء نے پی پی پی کی پوری قیادت کی فائلیں تیار کرائیں اور ان کو بلیک میل کیا۔ ایک دور میں تو پیپلزپارٹی کی پوری سینٹرل کمیٹی غیر موثر ہوگئی تھی۔ یاسین وٹو اور کوثر نیازی سمیت کئی رہنما پارٹی چھوڑ چلے گئے تھے۔ یہ فائلوں اور رازوں کو افشاء کرنے کی دھمکیاں ہی تھیں، جس سے یہ صورتِ حال پیدا ہوئی تھی۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’سمیع الحق کی دھمکی کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ یہ دھمکی نہیں دہشت گردی ہے کیونکہ ان کے مدرسے سے کئی خودکش حملہ آور نکلے ہیں۔ یہ زرداری پر خودکش حملے کی دھمکی بھی ہو سکتی ہے۔‘‘