1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستانی سڑکوں پرجنسی زیادتی کا شکار ہونے والے بچے

ندیم بارہ سال کی عمر میں جنسی زیادتی کا شکار ہوا اور تب سے وہ یہ کام کرنے والے مجرمانہ کرداروں میں شامل ہو چکا ہے۔ ان کرداروں میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ ملک میں بہت سے دیگر شعبوں کے لوگ بھی شامل ہیں۔

default

ندیم سڑک پر پیش آنے والے مصائب سے اچھی طرح واقف ہے۔ بچپن میں وہ خود جنسی زیادتی کا شکار ہوا اوراب وہ نوجوان لڑکوں کا ’ایجنٹ‘ ہے۔ اس وقت سترہ سالہ ندیم نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ پانچ سال پہلے تب  اس کی سٹرک پرتیسری رات تھی، اس کو    ایک پولیس والے نے اُٹھایا اور اس کے ساتھ زبردستی زیادتی کی۔ وہ بہت رویا لیکن اس کی مدد کے لیے کوئی نہیں پہنچا۔ دوسری مرتبہ اس کے ساتھ ایک  سڑیٹ گینگ کے لیڈر نے زیادتی کی اورپھر اسے اپنے گینگ میں شامل کر لیا، جہاں 17 اور لڑکے بھی اُس گینگ میں شامل تھے۔

چودہ سال کی عمر تک وہ مکمل طور پر اس طرح کے جرائم کا حصہ بن چکا تھا۔ اس کے ایجنٹ نے اس کو ایک موبائل فون لے کر دیا تاکہ وہ اپنے گاہکوں کے ساتھ رابطے میں رہے۔

 پاکستان کے ایسے اداروں کے مطابق، جو بچوں کی حفاظت کے لیے کام کر رہے ہیں، 90 فیصد بے گھر بچوں کے ساتھ سڑک پر پہلی رات ہی جنسی زیادتی ہوتی ہے اور ان میں سے60 فیصد کے ساتھ یہ زیادتی پولیس اہلکار کرتے ہیں۔

انسانی ترقی کی IHDF نامی فاؤنڈیشن کے سربراہ رانا آصف حبیب کا کہنا ہے کہ سڑک پر رہنے والے بچوں کو مارا پیٹا جاتا ہے، جنسی زیادتی اورتشدد کے علاوہ کبھی کبھی تو انہیں قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔’’ پولیس والے خود ایسے لوگوں کی پشت پناہی کرتے ہیں ‘‘ رانا آصف حبیب پوچھتے ہیں کہ جب خود پولیس اہلکار ہی اس گھناؤنے جرم میں ملوث ہیں تو وہ بچوں کی حفاظت کیا کریں  گے

 پاکستان کے سب سے بڑے خیراتی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے انور قاضی کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ  پولیس اہلکار 60  فیصد واقعات میں ان بچوں کو پکڑتے ہیں جو جنسی زیادتی کا شکار ہوں یا جسمانی طور پر معذور ہوں۔

 پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی سڑکوں پر زندگی  بسر کرنے والے  ایسے  بچوں کا سب سے بڑا گڑھ ہے۔ گھریلو تشدد کے شکار، منشیات کے عادی، اپنے گھروں سے بھاگے ہوئے ہزاروں بچے اور مختلف جرائم پیشہ لوگ اس گنجان آباد ساحلی شہر کے رہائشی  ہیں۔

Epidemie und Erkrankungen im Flutgebiet Pakistans

گھریلو تشدد کا شکار بچے

 فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پورے پاکستان میں ایک لاکھ 70 ہزار بچے سڑکوں پر رہتے ہیں جو زیادہ تر ناخواندہ ہوتے ہیں اور تقریبا ہمیشہ ہی بغیر خاندانوں کے بڑے ہوتے ہیں۔   اس طرح کے ماحول میں پرورش پانے والے بچے منشیات کے عادی یا پکے جرائم پیشہ بن جاتے ہیں۔

 ندیم نے بھی سولہ سال کی عمر میں ایک خیراتی ادارے سے فرار ہونے کی کوشش کی ۔ پھر ایک دوسرے خیراتی ادارے کے توسط سے اس نے فوٹوگرافی کی تربیت بھی حاصل کی اور وہ چاہتا تھا کہ فوٹوگرافی کو اپنا پیشہ بنائے۔ ندیم نے بتایا کہ وہ اپنے کام سے خوش تھا، لیکن ایک سال کے بعد ایک پولیس اہلکار نے بغیر کسی وجہ کے جھوٹے الزام میں اس کو حوالات میں بند کر دیا، اس کا کیمرہ چھین لیا اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کی۔

ندیم کا کہنا ہے’’  اس تجربے نے مجھے اس دنیا کے خلاف کر دیا  اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں مضبوط بن کر دکھاؤں گا۔ اب میرا اپنا گینگ ہے اور میرے کلائنٹ بہت بڑے لوگ ہیں۔ مجھے کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔ ‘‘ ندیم نے قبول کیا ہے کہ اس نے بھی ایک بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔

 رضوان ایک مچھیرے کا بیٹا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کو بھی ایک پولیس اہلکار نے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ شوکت حسین جو ایک پولیس آفیسر ہیں کا کہنا ہے کہ ان کے محکمے میں ایسی کالی بھڑیں موجود ہیں۔  لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کوئی ثبوت یا گواہی نہیں ہے جس کی بنا پر ہم ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کر سکیں۔

پاکستان میں وزارت انسانی حقوق کے ایک سینئر عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط  پر اے ایف پی کو بتایا کہ ملک میں دو سال سے بچوں کے تحفظ سے متعلق ایک قانونی بل وزارت داخلہ میں مسلسل التوا کا شکار ہے۔

رپورٹ : سائرہ ذوالفقار

ادارت  : امتیاز احمد

DW.COM