1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی سپریم کورٹ کے سینئر جج کے والدین کا قتل

پاکستان میں عدالت عظمیٰ کے سب سے سینئر جج جسٹس جاوید اقبال کے ریٹائرڈ پولیس افسر والد کو ان کی اہلیہ سمیت پراسرار انداز میں قتل کر دیا گیا ہے۔ قتل کی تفتیش کے لیے وفاقی اور صوبائی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

default

جسٹس جاوید اقبال (بائیں جانب) قائم مقام جسٹس رانا بھگوان داس سے حلف لیتے ہوئے

سپریم کورٹ کے جج جسٹس جاوید اقبال کے معمر والد عبدالحمید اور ان کی والدہ کو لاہور چھاؤنی کے علاقے کیولری گراؤنڈ کے ایک مکان میں قتل کیا گیا۔ عبدالحمید کی عمر بیاسی برس کے قریب تھی۔ مقتول ریٹائرڈ پولیس افسر گزشتہ تیرہ برسوں سے اس گھر میں مقیم ہونے کے علاوہ وہاں مفت ہومیو پیتھی علاج کی پریکٹس بھی کرتے تھے۔ اس خبر کے عام ہونے سے صوبائی اور وفاقی حکومت کے ایوانوں میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ اس دوہرے قتل کے محرکات سے تاحال کوئی بھی آگاہ نہیں ہے۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے تفتیش کا حکم دے دیا ہے۔ پنجاب کے وزیر قانون نے بھی جائے وقوعہ پر پہنچ کر حالات کا ذاتی طور پر جائزہ لیا۔

پولیس نے اس گھر کے تمام ملازمین کو شامل تفتیش کر لیا ہے۔ جگہ جگہ سے فنگر پرنٹس اکٹھے کرنے کا عمل رات گئے تک جاری رکھا گیا۔ گھر کے اندر سامان کے بکھرے ہونے کے تناظر میں فی الحال اس کو ڈکیتی کی ایک واردات قرار دیا گیا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال کی لاہور آمد کے بعد پولیس رپورٹ درج کروائی جائے گی۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر عاصمہ جہانگیر نے اس دوہرے قتل پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنی تنظیم کی طرف سے سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سپریم کورٹ کے سینئر جج جاوید اقبال انتہائی حساس مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں، جن میں لاپتہ افراد سے متعلق مقدمہ بھی شامل ہے۔

سپریم کورٹ کے جج کے معمر والدین کے قتل کے سوگ میں لاہور میں نئے گورنر لطیف کھوسہ کی تقریب حلف برداری ایک روز کے لیے مؤخر کر دی گئی ہے۔ اب یہ تقریب لاہور کے گورنر ہاؤس میں کل جمعرات کو منعقد ہو گی۔ ان سے حلف لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اعجاز چوہدری لیں گے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس