1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی سرحد کے ساتھ بھارتی فوج کی مشقیں شروع

بھارت نے اپنے روایتی حریف ملک پاکستان کی سرحد کے ساتھ چھ روزہ جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔ بڑے پیمانے پر ہونے والی ان جنگی مشقوں میں بھارتی فوج اپنے جدید ترین ہتھیاروں کی آزمائش بھی کرے گی۔

default

حال ہی میں ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز کی کارروائی کے نتیجے میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستانی حکومت جہاں شدید ترین بین الاقوامی دباؤ کا شکار ہے، وہیں بھارت نے راجھستان کے صحرائی علاقے میں جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔ پیر سے شروع ہونے والی قریب ایک ہفتہ جاری رہنے والی ان عسکری مشقوں میں 20 ہزار سے زائد فوجی حصہ لے رہے ہیں۔

خبررساں ادارے اے ایف پی نے بھارتی فوج کے ایک ترجمان ایس ڈی گوسوامی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ان مشقوں کے دوران بھارتی فوج اپنے جدید اسلحے کا استعمال بھی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج اپنے اُس اسلحے کا بغور جائزہ لے گی، جو اس نے حال ہی میں خریدا ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران بھارت نے اپنی عسکری طاقت کو مضبوط اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اسلحہ خریدا ہے۔

BDT Indien Rekrutierung Armee

بھارتی فوجی تربیت کے دوران

نفری کے لحاظ سے دنیا کی چوتھی سب سے بڑی فوج رکھنے والے ملک بھارت نے گزشتہ چھ برسوں کے دوران پاکستان کی سرحدوں کے ساتھ دس مرتبہ بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں کی ہیں۔

بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے قائم ہیں۔ دو مئی کو ایبٹ آباد میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد نئی دہلی حکومت نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ اسلام آباد حکومت ممبئی حملوں میں ملوث مشتبہ افراد کو گرفتار کرے۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی تھی۔ ان حملوں میں دس حملہ آوروں نے ممبئی کے تین مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی واردات کرتے ہوئے 166 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

ممبئی حملوں کے بعد نئی دہلی حکومت نے اسلام آباد حکومت کے ساتھ جامع امن مذاکرات معطل کر دیے تھے۔ اگرچہ دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین حال ہی میں مذاکرات کا سلسلہ بحال ہوا تھا تاہم بھارت نے اپنی تنقید جاری رکھی ہوئی ہے کہ پاکستانی حکومت ممبئی حملوں کے مبینہ ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM