پاکستانی سائنسدان کے لیے جرمن ایوارڈ | سائنس اور ماحول | DW | 31.10.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

پاکستانی سائنسدان کے لیے جرمن ایوارڈ

جرمن وفاقی وزارت برائے تعلیم و تحقیق کی جانب سے 25 بین الاقوامی نوجوان سائنسدانوں کو ’گرین ٹیلنٹ ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ ان میں پاکستانی سائنسدان کاشف رسول بھی شامل ہیں۔

ستائیس اکتوبر کو برلن میں ہونے والی ایک تقریب میں گرین ٹیلنٹ ایوارڈ 2017 وصول کرنے والے پچیس سائنسدانوں میں  پاکستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کاشف رسول بھی شامل تھے۔ 33 سالہ ڈاکٹر کاشف کی تحقیق پائیدار اور سستے طریقے کے ذریعے پینے کے پانی کو آلودگی سے پاک کرنے کے عمل پر مبنی ہے۔

آلودگی سے لاکھوں اموات، پاکستان بھی متاثرہ ممالک میں شامل

عالمی یوم آب: آلودہ پانی پاکستان میں بھی ایک بڑا مسئلہ

اسی فیصد پاکستانی آلودہ پانی پینے پر مجبور

’گرین ٹیلنٹس- پائیدار ترقی میں اعلی صلاحیتوں کے بین الاقوامی فورم‘ کی تقریب میں 21 ممالک سے تعلق رکھنے والے 25 نوجوان سائنسدانوں کو اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 9 ویں گرین ٹیلنٹ مقابلے میں مجموعی طور پر 95 سے زیادہ ممالک سے 602 سائنسدانوں کے مابین مقابلہ ہوا۔ ’گرین ٹیلنٹ’ ایوارڈ کے فاتح ممالک کی فہرست میں پہلی مرتبہ مصر، فیجی، عراق، سلواکیہ، سویڈن اور یوگینڈا کے نوجوان سائنس دان بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں پاکستان سے ڈاکٹر کاشف رسول، بھارت سے راما کانت دوبے، پرتیکشا شریواستو، جیاتی تریویدی جبکہ نیپال سے ڈاکٹر بھشنو پرساد بھٹاری اور انوپ۔ کے۔ سی کو گرین تحقیق ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اس مرتبہ جیوری میں شامل اعلیٰ درجے کے تحقیق دانوں نے ’گرین‘ یعنی صاف توانائی پر مبنی تحقیق کرنے والے نوجوان سائنسدانوں کا انتخاب کیا، جو تعلیم و تحقیق کے شعبے میں کام کرکے عالمی ماحولیاتی مسائل کا حل دریافت کرنے کی کوشش میں ہیں۔ پاکستانی نوجوان سائنسدان ڈاکٹر کاشف رسول کی تحقیق سستے اور پائیدار طریقے کے ذریعے پانی کو آلودگی سے پاک کرنے کے عمل پر مبنی ہے۔ ڈاکٹر کاشف رسول خلیجی ملک قطر کے ماحولیات و توانائی کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں واٹر سائنس اور انجینئرنگ کے شعبہ میں پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

Kashif Rasool erhält den Green Talent Award (GreenTalent/sbullinger)

ڈاکٹر کاشف کی تحقیق پائیدار اور سستے طریقے کے ذریعے پینے کے پانی کو آلودگی سے پاک کرنے کے عمل پر مبنی ہے

عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں سے جڑے مسائل میں ایک اہم مسئلہ ’واٹر سکیورٹی‘ کا بھی ہے۔ اس تناظر میں عالمی سطح پر پائیدار واٹر مینیجمنٹ میں تازہ پانی کے زیادہ استعمال کے بجائے صنعتی اور روز مرہ کی زندگی میں استعمال کیے جانے والے پانی کو پینے کے لیے دوبارہ کارآمد بنانے کے عمل کو ترجیح دی جارہی ہے۔ کاشف کی تحقیق کی توجہ کا مرکز بھی قابل تجدید بائیو توانائی کے فروغ  کے ساتھ آلودہ پانی سے مضر صحت اجزاء کا خاتمہ ہے۔
جرمن کونسل برائے پائیدار ترقی کے نمائندے فاکول لیخہارٹ نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی سائنسی تعاون کے لیے گرین طلباء پروگرام کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ رواں سال کے ’25 گرین محققین‘ کی سائنسی مہارتوں اور غیرمتزلزل حوصلوں سے بہت متاثر ہوئے ہیں، ’’عالمی سطح پر موجود چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ان سائنسدانوں کی تحقیق اہم کردار ادا کرے گی اور مجھے خوشی ہے کہ وہ جرمن تحقیقاتی نظام کا حصہ بن سکیں گے۔‘‘

گرین ٹیلنٹ ایوارڈز حاصل کرنے والے نوجوان سائنسدانوں کو دو ہفتوں کے لیے جرمنی بھی مدعو کیا گیا تاکہ وہ  ’سائنس فورم‘ میں شرکت کر سکیں۔ اس دوران انہوں نے جرمنی میں پائیدار تحقیق پر کام کرنے والے ریسرچ سینٹرز کا دورہ بھی کیا۔ سائنس فورم کی ورکشاپس اور دیگر تقاریب کے موضوعات اس سال کے موٹو ’پائیدار پیداوار اور استعمال‘ کے حوالے سے چنے گئے تھے۔ نوجوان محققین نے سائنس فورم کے دوران جدید ٹیکنالوجی پر کام کرنے کے بارے میں معلومات بھی حاصل کیں۔

ان محققین نے معروف ماہرین کے ساتھ خصوصی ملاقاتوں میں خیالات کا تبادلہ بھی کیا۔ یہ سائنس فورم دراصل نوجوان سائنسدانوں کے لیے جرمنی کے جدید نظام سے متعارف ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ممکنہ تعاون کے دیگر مواقع دریافت کرنے کے لیے بھی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ گرین ٹیلنٹ ایوارڈ کے ذریعے ان پچیس سائنسدانوں کی تحقیق کو حتمی مرحلے تک پہنچانے میں تعاون کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سن 2018 میں ان کو اپنی پسند کے جرمن ادارے میں تحقیق جاری رکھنے کی دعوت بھی دی جائے گی۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات