1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی دارالحکومت میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی مقاصد کے لیے اضافی سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کر دی گئی ہے۔ سکیورٹی کو انتہائی سخت کرنے کے لیے نیم فوجی دستوں کو بھی حساس علاقوں میں متعین کیا گیا ہے۔

پاکستان کی وزارت داخلہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں غیر ملکی مہمانوں کی آمد کے تناظر میں سکیورٹی انتہائی چوکس اور سخت کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں مختلف چوراہوں، اہم سرکاری عمارات، ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز سمیت کئی علاقوں میں معمول کے پولیس اہلکاروں کے ہمراہ اضافی دستے بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ حساس علاقوں کی سکیورٹی کی ذمہ داری نیم فوجی دستوں کے حوالے کر دی گئی ہے۔

کل پہلی مارچ بروز بدھ  پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں اکنامک کوآپریشن تنظیم کا سربراہ اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ اس اجلاس کے حوالے سے بعض سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے علاوہ ایرانی صدر حسن روحانی کی آمد بھی متوقع ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ ترکی، ایران اور پاکستان اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کے بانی اراکین میں شمار ہوتے ہیں۔

Pakistan Prozess gegen Nawaz Sharif (picture-alliance/AP Photo/A. Naveed)

اسلام آباد میں سکیورٹی مقاصد کے لیے اضافی سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کر دی گئی ہے

کل سے شروع ہونے والے اجلاس میں دس مختلف ملکوں کے نمائندے شریک ہو رہے ہیں۔ اس اجلاس میں شرکاء  اقتصادی تعاون میں فروغ اور تجارتی معاملات کو مستحکم کرنے پر فوکس کریں گے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینے کے لیے تنظیم کے رکن دس ملکوں کے کئی وزراء پہلے ہی اسلام آباد پہنچے ہوئے ہیں۔

بعض سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی اِس اجلاس میں شریک نہیں ہو رہے اور اُن کی جگہ ایک اعلیٰ سطحی وفد کابل حکومت کی نمائندگی کرے گا۔ اس تنظیم میں وسطی ایشیائی ریاستیں بھی شامل ہیں۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ ان ملکوں سے کوئی سربراہ حکومت شرکت کرے گا۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے سیکرٹری اعزاز احمد چوہدری کا کہنا ہے کہ تنظیم کا یہ اجلاس رکن ملکوں کے درمیان اقتصادی پیداوار میں اضافے کا باعث بنے گا اور پاکستان کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنے معاشی و تجارتی روابط کو فروغ دینے کے علاوہ عالمی برادری پر یہ واضح کرنے کی کوشش کرے گا کہ اُسے تنہا نہیں کیا جا سکتا۔