1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستانی خواتین کے لیے دو پہیے، چار سے بہتر

پاکستانی صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کی ایک مصروف سڑک پر ایک نوجوان طالبہ طیبہ طارق اپنی بالکل نئی موٹر سائیکل پر سوار با آسانی اپنی منزل کی طرف گامزن ہے۔

جینز اور جیکٹ میں ملبوس اور ہیلمٹ پہنے یہ 22 سالہ لڑکی دراصل اس مہم اور تبدیلی کا حصہ ہے جو پاکستان میں خواتین موٹر سائیکل ڈرائیورز کو سڑکوں پر لانے کے لیے کوشاں ہے۔ عام طور پر پاکستان میں خواتین موٹر سائیکل چلاتے ہوئے نظر نہیں آتیں جس کی بڑی وجہ شاید وہ معاشرتی دباؤ ہے جو مردانہ برتری والے اس معاشرے میں انہیں عام طور پر برداشت کرنا پڑتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستان میں جنسی امتیاز کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں خواتین کی آبادی کا دو تہائی لیبر مارکیٹ میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا۔ بین الاقوامی ادارہ محنت آئی ایل او کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ سفر کی مناسب سہولیات کا نہ ہونا بھی ہے۔

طیبہ طارق کے مطابق، ’’اگر لڑکیاں موٹر سائیکل چلانا سیکھ لیں تو آزادی سے باہر نکل سکتی ہیں اور خود ہی کہیں آ جا سکتی ہیں۔‘‘ طیبہ طارق ایک کسٹمز افسر ہیں اور اپنے گھر سے واہگہ بارڈر تک آنے جانے کے لیے موٹر سائیکل کا استعمال کرتی ہیں، جو 25 کلومیٹر دور ہے۔ کار کے مقابلے میں موٹر سائیکل شہر میں سفر کے لیے نہ صرف آسان سواری ہے بلکہ قیمت کے لحاظ سے بھی بہت سستی بھی ہے۔

لاہور میں ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار سجاد مہدی نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں 150 خواتین کو موٹر سائیکل چلانا سکھائی ہے۔ ’’مگر بہت سے خواتین نے اپنے طور پر ہی موٹر سائیکل چلانا سیکھ لی ہے۔‘‘

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی حکومت نے بھی شاید خواتین کے لیے اس سواری کی اہمیت اور اس کی ضرورت محسوس کر لی ہے۔ اسی باعث گزشتہ برس نومبر میں ایک مہم کا آغاز کیا گیا تھا، جسے ’ویمن آن وہیلز‘ کا نام دیا گیا ہے اور جس میں صنفی بنیادوں پر تشدد اور دوران سفر خواتین کے ہراساں کیے جانے جیسے مسائل کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

خواتین اب بطور ٹریفک وارڈن بھی لاہور کی سڑکوں پر دیکھی جا سکتی ہیں

خواتین اب بطور ٹریفک وارڈن بھی لاہور کی سڑکوں پر دیکھی جا سکتی ہیں

اس مہم کے تحت 150 خواتین کو پولیس کی زیرنگرانی کام کرنے والے ایک تربیتی مرکز سے موٹرسائیکل چلانے کی تربیت فراہم کی گئی۔ ان خواتین نے اتوار 10 جنوری کو لاہور کی سڑکوں پر موٹر سائیکل سواری کی۔ اس ریلی میں غیر ملکی سفارت کار بھی شریک ہوئے اور انسانی حقوق کے حامی بھی۔ اس موقع پر پنجاب حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ لاہور میں کام کرنے والی خواتین اور طالبات کو گلابی رنگ کے ایک ہزار اسکوٹرز ارزاں قیمتوں پر فراہم کیے جائیں گے۔

امید کی جا رہی ہے کہ اپنے موٹر سائیکل پر سفر کرنے والی خواتین کو اس طرح کے ہراساں کیے جانے کے واقعات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جو عام طور پر رکشوں میں سفر کرنے والی خواتین کو کرنا پڑتا ہے۔ اپنی موٹر سائیکل کے سبب ان خواتین کو اس عمومی مسئلے سے بھی نجات مل سکے گی جو انہیں کسی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی صورت میں اب تک لاحق رہا ہے۔