1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستانی خواتین فٹ بالرز، عالمی کپ میں شرکت کی خواہش مند

جرمنی میں کھیلے گئے خواتین کے فٹ بال کے عالمی کپ نے جہاں دنیا بھر میں فٹ بال کی شوقین خواتین میں نیا جوش و خروش پیدا کیا، وہاں یہ پاکستانی خواتین فٹ بالرز میں بھی ایک نئی امنگ پیدا کرنے کا باعث بنا ہے۔

default

پاکستان کی قومی فٹ بال ٹیم کی کھلاڑی اسما عثمان

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی قومی فٹ بال ٹیم کی کھلاڑی اسما عثمان نے بتایا کہ پاکستان میں خواتین نے چند سال پہلے ہی پروفیشنل انداز میں باقاعدہ طور پر فٹ بال کھیلنا شروع کیا ہے۔ ان کے بقول معاشرتی رویے، خواتین کوچز کی کمی، اچھے ٹورنامنٹس کا زیادہ تعداد میں انعقاد نہ ہونا اور میڈیا کی طرف سے مناسب تعاون کا نہ ملنا خواتین کے فٹ بال کے فروغ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ان کے بقول پاکستانی خواتین کیلئے اب فٹ بال کے کھیل میں بھی راستے کھلنا شروع ہو گئے ہیں۔

پاکستانی خواتین فٹ بال ٹیم کے بنگلہ دیش کے حالیہ دوروں نے پاکستانی خواتین فٹ بالرز کو نیا اعتماد دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر اس طرح محنت جاری رہی تو پاکستان کی خواتین کی فٹ بال ٹیم آئندہ چند برسوں میں فٹ بال کے عالمی مقابلوں میں ضرور شامل ہو سکے گی۔ اسما عثمان نے فٹ بال ایک جرمن فٹ بالر خاتون مونیکا سٹیپ سے سیکھا تھا ۔ وہ جرمنی میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تفصیلات انٹر نیٹ کے ذریعے حاصل کر تی رہی ہے۔

پاکستان کی ایک اور فٹ بالر سمیرا آفتاب ایک مقامی نجی سکول میں لڑکیوں کو فٹ بال کھیلنا بھی سکھا رہی ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں المیہ یہ ہے کہ خواتین کی پروموشن کیلئے تو بہت کچھ ہو رہا ہے لیکن خواتین کے کھیلوں کے فروغ کیلئے معاشرہ زیادہ کچھ نہیں کر رہا ہے۔ ان کے بقول پاکستانی فٹ بالر جرمنی میں کھیلے جانے والے خواتین کے عالمی کپ کے مقابلے دیکھنے کی شدید متمنی تھی لیکن پاکستان میں زیادہ تر ٹی وی چینلز نے ان مقابلوں کو براہ راست نہیں دکھایا۔ ان کے بقول فٹ بال کے ورلڈ کلاس مقابلے دیکھنے سے ایک تو نئی فٹ بالرز کو نئی تکنیکس سیکھنے میں مدد ملتی ہے اور اس سے عام لوگوں میں فٹ بال کے کھیل کیلئے دلچسپی بھی پیدا ہوتی ہے۔

Pakistan Cricket Board

پاکستانی خواتین فٹ بال ٹیم کے بنگلہ دیش کے حالیہ دوروں نے پاکستانی خواتین فٹ بالرز کو نیا اعتماد دیا ہے

زینب مشتاق پاکستان کی ایک ایسی فٹ بالر ہیں جنہیں خواتین کے حالیہ ورلڈ کپ کے میچز جرمنی میں دیکھنے کا موقع ملا۔ زینب جرمنی کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے زیر انتظام لاہور کے سرحدی علاقے میں چلائے جانے والے ایک سکول میں غریب بچیوں کو فٹ بال کی تربیت بھی دے رہی ہیں۔ زینب مشتاق کے بقول جرمنی میں کھیلے جانے والا خواتین کا ورلڈ کپ ایک نئی دنیا لئے ہوئے تھا۔ ان کے بقول مختلف ملکوں سے آئی ہوئی فٹ بالرز سے ملنا اور ان کے ساتھ تبادلہ خیال کرنا انہیں بہت اچھا لگا۔ زینب کیلئے یہ بات بھی حیرت کا باعث ہے کہ جرمنی کے اندر مختلف علاقوں میں کھیلنے والی خواتین فٹ بالرز مختلف طریقوں سے فٹ بال کھیلتی ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ مخدوم فیصل صالح حیات نے ایک وفد کے ہمراہ جرمنی میں خواتین کے عالمی کپ کے مقابلوں کے موقع پر ہونے والے ایک سمپو زیم میں شرکت کی اور فٹ بال میچز دیکھے۔ فیصل صالح حیات کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں دو کروڑ ساٹھ لاکھ خواتین فٹ بال کھیلتی ہیںَ فٹ بال کے ہر دس کھلاڑیوں میں سے ایک خاتون کھلاڑی ہوتی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں خواتین کے فٹ بال کا کھیل فروغ پذیر ہے یہاں خواتین کی نیشنل فٹ بال چیمپین شپ کے مقابلوں میں درجن بھر ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔

پاکستان میں خواتین فٹ بالرز کوچنگ کے شعبے میں بھی آ رہی ہیں۔ اس وقت پاکستان میں ڈی کیٹیگری کی چالیس خواتین فٹ بال کوچز، اور سی کیٹیگری کی 16 خواتین فٹ بال کوچز موجود ہیں۔ ایک مقامی فٹ بال کلب کے سربراہ میاں رضوان نے بتایا کہ جرمنی میں کھیلے جانے والے حالیہ ورلڈ کپ کے دوران بہت سی خواتین نے ان کے کلب کو جوائن کیا ہے۔ ان کے بقول کھیل کے میدان دہشت گردی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM