1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

پاکستانی خواتین:آواز بلند کرنے کی بھاری قیمت

پاکستان میں خواتین کے حقوق کی بات بڑے زور وشور سے کی جاتی ہے تاہم حقیقت میں آج بھی خواتین کی اکثریت اپنے جائز حقوق سے محروم ہے۔ پڑھی لکھی اور خود کفیل خواتین کو بھی عموماﹰ اپنی آواز بلند کرنے کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔

اس کی ایک مثال یک ٹی وی پروگرام میں خاتون تجزیہ کار ماروی سرمد اور حافظ حمداللہ کے درمیان ہونے والی گفتگو ہے۔ اس گفتگو کو پاکستانی معاشرے میں خواتین کے مقام کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی فریضہ اقبال گزشتہ پندرہ برسوں سے خواتین کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان کہنا ہے،’’ماروی سرمد اور حافظ اللہ کے درمیان پیش آنے والا واقعہ تو ایک چھوٹی سی مثال ہے جو میڈیا کے ذریعے سامنے آئی کہ کس طرح ایک خاتون جو دوسرے سے سیاسی اور نظریاتی اختلاف رکھتی ہے، ان کی آواز کو مزید اونچی آواز اور دھمکیوں سے دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔‘‘ اُن کے بقول کیمرے کی آنکھ سے دور ہر شعبے میں خواتین کو کچھ اسی طرح کے رویوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ فریضہ اقبال کے مطابق ایک مضبوط پس منظر سے تعلق رکھنے والی خاتون کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو پھر ایک عام عورت کو کیا کچھ سہنا پڑتا ہو گا، یہ امر قابل فکر ہے۔


فریضہ اقبال کی تائید ممبر قومی اسمبلی اور متحدہ قومی مومنٹ کی رہنما سمن سلطانہ جعفری بھی کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں،’’بہت حد تک یہ بات درست ہے کہ خاتون کا تعلق کسی عام گھرانے سے ہو، کسی بھی شعبے سے ہو یا پھر وہ سیاسی طور پر پختہ ہی کیوں نہ ہو، ان کو اپنی بات کہنے یا دوسرے تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘

Symbolbild Gewalt gegen Frauen in Indien

پاکستان کی طرح مردوں کی اجارہ داری والے بہت سے معاشروں میں خواتین کی آواز کو دبائے رکھنے کا رواج آج بھی موجود ہے


سمن مزید کہتی ہیں کہ اس طرح کے معاملے کو سیاسی یا مذہبی رنگ نہیں دینا چاہئے کیونکہ یہ رویہ اصل بات یا مسئلے کا رخ موڑ دیتا ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کو جہاں بھی نشانہ بنا کر objectify کیا جائے، اس کی مخالفت کی جائے اس کے خلاف مل کر آواز اٹھانا ضروری ہے ورنہ یہ رجحان پنپتا رہے گا۔‘‘

ماہر سماجیات ڈاکٹر حامد عالم کا کہنا ہے کہ طبقہ یا شعبہ کوئی بھی ہو، دوسروں کی رائے کو سننے یا اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر روز مرہ کی عام صورتحال کو دیکھا جائے تو یہ واضع نظر آتا ہے کہ اب معاشرے میں قوت برداشت کم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے اپنے نکتہ نظر کے حق میں ٹی وی پر نشر ہونے والی حالیہ سیاسی اور نظریاتی رنجش کے ساتھ ساتھ اُن واقعات کا بھی ذکر کیا جن میں خواتین کو پسند کی شادی کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے کو جرم قرار دے کر ان کو جان سے مار دیا جاتا ہے۔

Symbolbild - Weinende Frauen in Bahrain

کیا یہ خواتین کبھی اپنی آوازیں بلند کر سکیں گی؟


حامد عالم کے خیال میں کسی مذہب کو یا کسی ذاتی نظریے کو اختیار کرنا اور اس پر عمل کرنا ہر شخص کا بنیادی حق ہے، لیکن اگر ایک عورت اس حق کو استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اس کو اکثر مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عالم کے خیال میں ایک عورت کا ایسا کرنا لوگوں کے لیے عزت اور غیرت کا معاملہ بن جاتا ہے اور اُس خاتون کی جان لینے میں بالکل گریز نہیں کرتے۔ ماہرین سماجیات کا کہنا ہے کہ اس رویے کا قصور وار صرف مرد ہی نہیں بلکہ خواتین بھی ہوتی ہیں جو اکثر اپنے شوہر یا بیٹوں کو بچانے کے لیے الزام اپنے سرلے لیتی ہیں یا اس عمل کو درست قرار دینے کی کوشش کرتی ہیں۔

واضع رہے کہ گزشتہ دنوں ایک نجی ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے ایک پروگرام میں کالم نگار اور سماجی کارکن ماروی سرمد اور جمعیت علما اسلام (ف) کے سینیٹر حافظ اللہ کے درمیان لڑکیوں کے جلائے جانے کے واقعات پراختلافات پیدا ہوئے، جو انتہائی سنگین صورت اختیار کر گئے۔ سوشل میڈیا پر دونوں افراد کی حق اور مخالفت میں بہت بحث کی جاتی رہی۔


یہ واحد واقعہ نہیں جس میں کسی خاتون کو سیاسی یا نظریاتی اختلاف کے باعث تضحیک کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ ایسا ہی ایک واقعہ کچھ عرصے قبل قومی اسمبلی میں بھی پیش آچکا ہے جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنی تقریر کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کو ’ٹریکٹر ٹرالی‘ کہتے ہوئے ان کی آواز کا مزاق اڑایا تھا۔

DW.COM