1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی خفیہ ایجنسی ہماری مدد کرتی ہے، طالبان کمانڈر

پاکستان کی طرف سے باقاعدہ تردید کے باوجود چند طالبان کمانڈروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی انہیں افغانستان متعین غیر ملکی فوجیوں کے خلاف ہتھیار اور تربیت مہیا کرتی ہے۔

default

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طالبان کمانڈروں کے اس بیان کے بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں پہلے ہی سے موجود تناؤ مزید شدت اختیار کر جائے گا۔ درمیانی سطح کے کئی طالبان کمانڈروں نے یہ انکشاف برطانوی ٹیلی وژن بی بی سی کو ایک دستاویزی فلم کے لیے دیے گئے انٹرویو میں کیا ہے۔ دو حصوں پر مشتمل اس دستاویزی فلم ’’Secret Pakistan‘‘ کا پہلا حصہ بدھ کے روز نشر کیا گیا۔

طالبان کمانڈر ملا قاسم نے انٹرویو میں بتایا ہے کہ ایک جنگجو کے لیے ضروری اشیاء کی فراہمی اور چھپنے کے لیے جگہ انہیں پاکستان کی طرف سے فراہم کیے جاتے ہیں۔ بی بی سے کے فراہم کردہ حوالہ جات کے مطابق اس کمانڈر کا کہنا ہے، ’’پاکستان ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، سب سے پہلے ہماری حمایت کرتے ہوئے ہمیں چھپنے کے لیے جگہ فراہم کی جاتی ہے، جو کہ بہت اہم بات ہے اور دوسرا ہمیں ہتھیار بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔‘‘

Afghanistan 10 Jahre Intervention Luftangriff NO FLASH

طالبان کمانڈر ملا قاسم نے انٹرویو میں بتایا ہے کہ ایک جنگجو کے لیے ضروری اشیاء کی فراہمی اور چھپنے کے لیے جگہ انہیں پاکستان کی طرف سے فراہم کیے جاتے ہیں

اسی دستاویزی فلم میں دیگر طالبان کمانڈر یہ بیان کرتے ہیں کہ کس طرح انہیں پاکستانی سرزمین پر واقع ٹریننگ کیمپوں میں تربیت دی جاتی تھی اور دی جاتی ہے۔ اپنا نام ملا عزیز اللہ ظاہر کرنے والے ایک کمانڈر کا کہنا ہے کہ یہ تربیتی کیمپ چلانے والے ماہرین یا تو آئی ایس آئی کے اہلکار ہیں یا پھر ان کے اس ایجنسی سے قریبی روابط ہیں، ’’وہ تمام آئی ایس آئی کے ممبران ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں، جو تربیتی کیمپ چلاتے ہیں، پہلے ہمیں بم کے بارے میں تربیت دی جاتی ہے اور اس کے بعد عملی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔‘‘

پاکستان نے اس پروگرام میں لگائے گئے تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔  فوج کے تعلقات عامہ کے نگران میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی کو بتایا، ’’ یہ کہنا کہ ان عسکری گروپوں کے تربیتی مراکز کو ریاست کی حمایت حاصل تھی، میرے خیال میں یہ الزامات حقیقت سے بہت ہی دور ہیں۔‘‘

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM