1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ امریکہ روانہ

امریکہ کی طرف سے پاکستان کی فوجی امداد میں 800 ملین ڈالر کی کٹوتی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ بات چیت کے لیے واشنگٹن روانہ ہوگئے ہیں۔

جنرل احمد شجاع پاشا اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی

جنرل احمد شجاع پاشا اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی

پاکستانی فوج کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کا یہ دورہ پہلے سے طے نہیں تھا۔ اس کے بارے میں فوری طور پر دستیاب معلومات کے مطابق جنرل پاشا کا یہ دورہ ایک دن کا ہے۔ ایک خفیہ امریکی آپریشن میں پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے آئی ایس آئی پر طالبان سے روابط کے حوالے سے امریکی حکام کا شدید دباؤ ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان انٹیلیجنس کے حوالے سے جاری تعاون میں اس وقت دراڑ آئی تھی جب رواں برس جنوری میں سی آئی اے کے ایک کانٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس نے لاہور میں دو شہریوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔

امریکہ کی طرف سے پاکستان کی فوجی امداد میں 800 ملین ڈالر کی کٹوتی کردی گئی

امریکہ کی طرف سے پاکستان کی فوجی امداد میں 800 ملین ڈالر کی کٹوتی کردی گئی ہے

اس واقعے کے بعد عسکریت پسندوں کے خلاف مشترکہ آپریشنز متاثر ہوئے تھے۔ مئی میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت نے ان تعلقات کو مزید کشیدہ کردیا کیونکہ پاکستانی حکام اس مقصد کے لیے کیے جانے والے خفیہ امریکی آپریشن کو ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔

پاکستانی فوج کی طرف سے جاری کردہ یک سطری بیان کے مطابق جنرل پاشا ’انٹیلیجنس معاملات پر اشتراک‘ کے لیے واشنگٹن گئے ہیں۔

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے امریکی فوجی تریبت کاروں کو بھی ملک سے چلے جانے کو کہا تھا۔ ان حالات میں امریکہ کی طرف سے پاکستان کے لیے منظور کی جانے والی دو بلین ڈالر کی فوجی امداد میں سے قریب 800 ملین ڈالر کی امداد روک لی گئی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد پاکستانی اقدامات پر امریکی ناپسندیدگی کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: ندیم گِل

DW.COM