پاکستانی خفیہ ادارے کا منفی تاثر، بھارتی فلم پر پابندی عائد | فن و ثقافت | DW | 15.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پاکستانی خفیہ ادارے کا منفی تاثر، بھارتی فلم پر پابندی عائد

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان اور کترینہ کیف کی نئی آنے والی فلم کو پاکستان میں نمائش سے روک دیا گیا ہے۔ اس فلم کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی کو منفی انداز میں پیش کرنے پر پابندی کا سامنا ہے۔

بالی ووڈ فلم ’ٹائیگر زندہ ہے‘ اس مہینے پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں ایک ساتھ نمائش کے لیے پیش کی جانی تھی۔ تاہم پاکستانی حکام نے تقسیم کاروں کو اس فلم کی درآمد اور ملک کے تمام سینما گھروں میں اس کی نمائش کو اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

 حکام کے مطابق ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ فلم میں پاکستان کی سب سے طاقتور خفیہ ایجنسی ، آئی ایس آئی کو مبینہ طور پرہتک آمیز انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

پاکستان سنسر بورڈ کے چیئرمین مبشر حسن کا کہنا ہے، " ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس فلم کو نمائش کے لیے این او سی جاری نہیں کیا جائے گا۔ فلم میں ہمارے سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو ہرگز قابل قبول نہیں۔ "

فلم ’ ٹائیگر زندہ ہے‘ کی کہانی خان نامی ایک بھارتی ایجنٹ کے گرد گھوم رہی ہے جسے ایک بھارتی نرس کو بچانے کے مشن پر بھیجا جاتا ہے۔ اس نرس کو عراق میں انتہا پسند عسکریت پسندوں نے یرغمال بنا کر رکھا ہوتا ہے۔  اس مشن کے دوران خان کا مقابلہ ایک پاکستانی جاسوس سے بھی ہوتا ہے۔

اس سے قبل پاکستانی فلم سنسر بورڈ نے بھارتی فلم ’رئیس‘ کی نمائش پر ملک گیر پابندی عائد کی تھی۔ اس فلم میں سپر سٹار شاہ رخ خان کے ساتھ پہلی بار معروف پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے بھی کام کیا تھا۔ اس بارے میں پاکستانی فلم سنسر بورڈ کا کہنا تھا کہ بھارتی فلم ’رئیس‘ کو نامناسب مندرجات کے باعث سنسر بورڈ نے اپنا سرٹیفیکیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

DW.COM