1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی خفیہ اداروں کا ہاتھ نہیں:وزیر اعظم پاکستان

یوسف رضا گیلانی نے واضح طور پر کہا ہے کہ کابل میں بھارتی سفارتخانے پر خود کش حملے میں پاکستانی خفیہ اداروں کا کوئی کردار نہیں ہے، اس سے قبل افغان صدر حامد کرزئی نے کہا تھا کہ ایسا حملہ ایجنسی کی مدد کے بغیرممکن نہیں

default

کابل میں بھارتی سفارتخانے پر خود کش حملے نے افغان توپوں کا رخ ایک مرتبہ پھر پاکستان کی طرف موڑ دیا ہے

افغان حکومت کی طرف سےپاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ پیر کے دن افغان دارلحکومت کابل میں حساس مقام پر واقع بھارتی سفارتخانے پر ایک خون ریز خودکش حملے نے افغان حکومت کو ایک بار پھر موقع فراہم کیا کہ پاکستان پر الزام لگایا جائے۔ اس دل دہلا دینے والے خود کش حملے میں تقریبا پانچ بھارت اہلکاروں سمیت کل اکتالیس افراد ہلاک جبکہ ایک سو چالیس سے زائد زخمی ہوئے۔ اس خود کش حملے کے فورا بعد افغان صدر حامد کرزئی کی صدارت میں کابییہ کی ایک ہنگامی میٹنگ بلوائی گئی۔ اس میٹنگ کے بعد منگل کے دن کابینہ کا متفقہ بیان سامنےآیا جس میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی خفیہ اداروں کی مدد کے بغیر اس طرح کا حملہ ہر گز ممکن نہیں ہے۔

Afghanistan, Koalitionstruppen erschießen nach Anschlag 16 Zivilisten

سن دو ہزار ایک میں افغانستان میں امریکی فوج کی تعیناتی کے بعد کابل میں یہ بد ترین خود کش حملہ ہے۔

افغان وزیر داخلہ نےاس حملے کا الزام اشارتا پاکستان پرعائد کیا۔ تاہم پہلی مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے براہ راست اس الزام کی تردید کی ہے۔ ملائشیا میں ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے گئے ہوئے پاکستانی ویزر اعظم نے کوالالمپور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خود اس وقت دہشت گردی سے نمٹنے کی کوششوں میں ہے اور وہ کبھی نہیں چاہتا کہ افغانستان میں عدم استحکام پیدا کیا جائے۔

کچھ ناقدین کا یہ کہنا بھی ہے کہ اس خود کش حملے میں پاکستان کا ہاتھ ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ افغانستان اور بھارت کے تعلقات بہتر نہ ہونے پائیں۔ تاہم بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ اس طرح کے حملے انہیں افغان حکومت کی مدد کرنے اور افغانستان میں تعمیر نو اور بحالی کے عزم میں ہزر گز نہیں آئیں گے اور بھارت ،افغانستان کے ساتھ اپنا عہد برقرار رکھے گا۔

افغانستان میں سابق پاکستانی سفیر رستم شاہ مہمند نے ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تازہ ترین خود کش حملے میں پاکستانی خفیہ ادارے ملوث نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں باغیوں کے بہت سے گروہ ہیں جو وہاں امریکی اتحادی افواج کی تعیناتی کے خلاف حامد کرزئی کی حکومت کو کمزور اور بد نام کرنا چاہتے ہیں۔

رستم مہمند کے مطابق یہ حملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لئے افغانستان سے امریکی اور یورپی ممالک کی افواج کا انخلا ناگزیر ہے۔ رستم مہمند کےخیال میں افغانستان میں قیام امن تک مسلم ممالک سے سیکورٹی دستے تعینات کرنے سے بھی یہ مسلہ حل ہو سکتا ہے۔