1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی خاتون ٹیچر کو زندہ جلا دینے والے تمام ملزم گرفتار

پاکستانی پولیس نے ان تمام پانچ مبینہ ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے، جنہوں نے حال ہی میں مری کے نواح میں ایک نوجوان خاتون ٹیچر پر تشدد کرنے کے بعد اسے اس لیے زندہ جلا دیا تھا کہ مقتولہ نے شادی سے انکار کر دیا تھا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے جمعہ تین جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق اس 19 سالہ خاتون ٹیچر کو اس لیے قتل کیا گیا کہ اس نے ایک ایسے شخص کے ساتھ شادی کی تجویز مسترد کر دی تھی، جو اس سے عمر میں دگنا ہے اور پہلے سے طلاق یافتہ بھی۔

پولیس اہلکار وحید احمد کے مطابق اس جرم کے مرتکب پانچ مبینہ افراد میں سے دو کو جمعرات دو جون کو ہی گرفتار کر لیا گیا تھا جبکہ باقی تین مشتبہ افراد کو آج جمعے کی صبح حراست میں لے لیا گیا۔ تفتیشی اہلکاروں کے مطابق اس جرم کا مرکزی ملزم مبینہ طور پر ایک ایسے پرائیویٹ اسکول کا پرنسپل ہے، جہاں مقتولہ ماضی میں پڑھاتی رہی تھی۔

اے پی نے لکھا ہے کہ یہی مرکزی ملزم وہ شخص ہے، جس کی خواہش تھی کہ اس کے طلاق یافتہ بیٹے کی شادی مقتولہ ماریہ صداقت کے ساتھ ہو جائے۔ اس واقعے کے بعد ماریہ نے اس اسکول میں ملازمت چھوڑ دی تھی لیکن مرکزی ملزم کی طرف سے اس پر خطرناک نتائج کی دھمکیوں کے ساتھ بار بار زور ڈالا جاتا رہا تھا کہ وہ اس رشتے کو قبول کر لے۔

مختلف خبر رساں اداروں کے مطابق مقتولہ ماریہ کے والد صداقت حسین عباس نے اس بات پر تسلی کا اظہار کیا کہ پولیس نے اس گھناؤنے جرم کے تمام مبینہ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ تاہم ساتھ ہی صداقت حسین عباس نے حکومت اور عدلیہ کے اہلکاروں سے ایک جذباتی اپیل بھی کی، جس میں انہوں نے کہا، ’’ان ملزمان کو بھی میرے اہل خانہ کی آنکھوں کے سامنے اسی طرح سزا دی جانا چاہیے، جس طرح انہوں نے میری بیٹی کو قتل کیا۔‘‘

اے پی کی رپورٹوں کے مطابق مقتولہ کے والد نے اگرچہ یہ بات بڑے دکھ سے کہی لیکن پاکستان میں، جہا‌ں بہت سے عام شہری انصاف نہ ملنے کی شکایت بھی کرتے ہیں، ایسے مطالبات پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ملکی قوانین اس طرح کے کسی اقدام کی قطعاﹰ اجازت نہیں دیتے۔

ماریہ صداقت پر اسلام آباد کے قریب مری کے نواح میں اپر دیوال نامی گاؤں میں متعدد افراد کے ایک گروہ نے پیر تیس مئی کے روز حملہ کیا تھا، جس دوران پہلے اس پر شدید تشدد کیا گیا تھا اور پھر اسے زندہ جلا دینے کے لیے آگ لگا دی گئی تھی۔

اس حملے کے بعد ماریہ کو شدید زخمی حالت میں اسلام آباد کے پِمز ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا، جہاں وہ بدھ یکم جون کے روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئی تھی۔ پولیس کے مطابق مقتولہ نے اپنی موت سے قبل ہسپتال میں ایک باقاعدہ بیان بھی دیا تھا، جس میں اس نے حملہ آوروں کے طور پر اسکول کے پرنسپل اور چار دیگر ملزمان اور ان کے ناموں کی واضح طور پر نشاندہی کر دی تھی۔

DW.COM