1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی حکومت کا حقانی نیٹ ورک سے گٹھ جوڑ ہے، امریکی سفیر

پاکستان میں تعینات امریکی سفیر کیمرون منٹر نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے کابل میں امریکی سفارت خانے اور نیٹو کے ہیڈکوارٹرز پر حملے میں ملوث حقانی نیٹ ورک کے پاکستانی حکومت کے ساتھ روابط کے ثبوت موجود ہیں۔

default

امریکی سیکرٹری دفاع لیون پنیٹا، فائل فوٹو

ہفتے کو پاکستان کے سرکاری ریڈیو کو دے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا، ’’چند روز قبل کابل میں ہونے والا حملہ حقانی نیٹ ورک کی کارروائی تھا۔ حقانی نیٹ ورک کے حکومت پاکستان کے ساتھ روابط کے ثبوت موجود ہیں اور اس چیز کو روکنا ہو گا۔‘‘

امریکی سفیر نے ان خیالات کا اظہار ایسے وقت کیا ہے، جب امریکی سیکرٹری دفاع لیون پنیٹا پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ پاکستان میں مقیم شورش پسندوں کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔ امریکہ کافی عرصے سے پاکستان سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے اور اسے شک ہے کہ اس گروپ کو پاکستانی حکومت کے بعض عناصر کی حمایت حاصل ہے۔

Taliban-Angriff auf Regierungsviertel Flash-Galerie

پاکستان میں امریکی سفیر نے کہا ہے کہ کابل میں امریکی سفارت خانے اور نیٹو ہیڈکوارٹرز پر ہونے والا حملہ حقانی نیٹ ورک کی کارروائی تھا

امریکہ کے یہ عوامی بیانات مئی میں پاکستانی سرزمین پر امریکی کارروائی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی علامت ہیں۔ کیمرون منٹر نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکہ ’بنیادی طور پر ایک ہی طرف کھڑے ہیں۔‘

بدھ کو کابل میں ہونے والے حملے کے بعد سیکرٹری دفاع پنیٹا نے کہا تھا، ’’ہم نے بارہا پاکستانی حکومت سے کہا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اس قسم کے حملوں کو روکے، مگر اس سلسلے میں بہت کم پیشرفت ہوئی ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’میں یہ نہیں کہوں گا کہ ہم اس کا کیسے جواب دیں گے۔ میں آپ کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم اس طرح کے حملوں کی مزید اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

پاکستانی دفتر خارجہ نے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔

Pakistan Waziristan

امریکی حکام کو شبہ ہے کہ حقانی نیٹ ورک وزیرستان میں مقیم ہے

اسپین میں نیٹو کی کانفرنس کے موقع پر پاکستان اور امریکہ کی اعلیٰ فوجی قیادت کے درمیان ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

کابل کے انتہائی حفاظتی حصار والے علاقے میں 19 گھنٹے تک جاری رہنے والی لڑائی میں 15 افراد ہلاک اور چھ غیر ملکی فوجی زخمی ہوئے تھے۔ افغانستان میں نیٹو فورسز نے جمعرات کو کہا تھا کہ اس نے حملے میں ملوث ہونے کے شبے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں سے ایک حقانی نیٹ ورک کا رکن ہے۔

امریکی حکام نے 10 ستمبر کو صوبہ وردک میں نیٹو کے ایک اڈے پر ہونے والے ٹرک بم حملے کا الزام بھی حقانی نیٹ ورک کے عسکریت پسندوں پر لگایا تھا، جس میں 77 امریکی فوجی زخمی ہو گئے تھے۔

امریکی حکام نے پاکستانی انٹیلیجنس پر الزام لگایا ہے کہ وہ انتہاپسندوں کے ساتھ دہرے کھیل میں ملوث ہے تاکہ افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ برقرار  رکھ سکے۔ واشنگٹن نے حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی اور ان کے بیٹے سراج الدین حقانی کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM