1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی حکومت نے چینی جوڑے کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

پاکستانی حکومت نے 24 مئی کو ملک کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اغوا ہونے والے چینی جوڑے کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ جہادی گروہ داعش نے تین روز قبل اس جوڑے کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔

تین روز قبل جہادی گروپ اسلامک اسٹیٹ نے ان چینی باشندوں کی ہلاکت کا دعوی کرتے ہوئے پاکستان کے بعض مقامی صحافیوں کو ایک ویڈیو بھیجی تھی جس میں بظاہر ان کی لاشوں کو دکھایا گیا تھا۔

گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج کے شعبہء تعلقات عامہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ  فوج نے بلوچستان میں کارروائی کر کے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی ایک محفوظ پناہ گاہ کو تباہ کر دیا ہے اور اس تنظیم کے بارہ عسکریت پسندوں کو بھی ہلاک کر دیا ہے۔ پاکستانی فوج کے اس بیان کے بعد ہی داعش کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے کوئٹہ سے اغوا ہونے والے چینی جوڑے کو قتل کر دیا ہے۔

اس سے قبل آج پاکستان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے یہ بتایا گیا تھا کہ مذکورہ چینی جوڑے نے ویزا سسٹم کو غلط استعمال کیا تھا۔ وزارتِ داخلہ نے ان چینی شہریون کے نام 24 سالہ لی ژنگ ینگ اور 26 سالہ  مینگ لی شی بتائے ہیں۔

پاکستانی حکومت کے مطابق  پاکستان میں گزشتہ ماہ اغوا اور پھر ہلاک ہونے والا یہ چینی جوڑا اساتذہ نہیں بلکہ مذہبی مبلغ تھے۔ پاکستانی وزارتِ داخلہ کے بیان کے مطابق یہ چینی جوڑا بظاہر کوریا کے ایک شہری سے اردو زبان سیکھ رہا تھا لیکن، ’’ درحقیقت وہ تبلیغ میں مصروف تھے‘‘۔

وزارتِ داخلہ نے تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ یہ چینی میاں بیوی کس قسم کی تبلیغ میں مصروف تھے، نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ کورین باشندے کا تعلق شمالی کوریا سے تھا یا جنوبی کوریا سے۔

گزشتہ ماہ کی چوبیس تاریخ کو اس چینی جوڑے کو پولیس یونیفارم میں ملبوس اغوا کاروں نے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اغوا کیا تھا۔