1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پاکستانی جو روس سے سائیکل پر ناورے پہنچ گیا

سخت ترین سردی بھی پاکستانی تارکِ وطن رحمان کو روس سے ناروے پہنچنے سے روک نہ سکی اور وہ سائیکل چلاتا ہوا، ناروے کی سرحد عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

پاکستان سے ایک بہتر مسقبل کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا کر اور زندگی پر کھیل کر یورپ کا رخ کرنے والا 34 سالہ رحمان، آخر کر شدید سردی اور برف باری کو شکست دیتا ہوا، روس سے ناروے میں داخل ہو گیا۔ اس دوران اس کے سفر کی واحد رفیق اس کی سائیکل تھے، جس کے پیڈل سرحد پار کر کے ہی رکے۔

رحمان اس صبرآزما اور اعصاب شکن سفر کا احوال بیان کرتے ہوئے کہتا ہے، ’’مسلسل برف باری ہو رہی تھی، ہر طرف پھسلن تھی اور شدید سردی تھی اور یہ سب کچھ اس لیے بھی زیادہ سخت تھا کہ میرے ساتھ آنے والے کچھ لوگوں کو سائیکل چلانا نہیں آتی تھی۔‘‘

Symbolbild - Flüchtlinge

اس انتہائی دشوار گزار مگر قدرے محفوظ راستے سے ہزاروں افراد یورپ پہنچ چکے ہیں

رحمان جو سائیکل پر یہ طویل فاصلہ طے کر کے ناروے پہنچا، تھکن سے چور ہے مگر مطمئن بھی کہ آخرکار وہ اس تمام تگ و دو کے بعد اس مقام پر پہنچ گیا، جس کے لیے اُس نے سارے جتن جھیلے تھے۔

ایک ایسے وقت میں جب جنگ زدہ علاقوں اور ملک میں تشدد اور رنگ و نسل کی بنیاد پر ہونے والے حملوں سے فرار ہو کر ہزاروں افراد بحیرہء روم پار کر کے یورپ پہنچ رہے ہیں، قریب ایک سو افراد آرکٹِک کا سرد اور لمبا مگر محفوظ راستہ استعمال میں لا کر شینگن ممالک میں پہنچنے میں مصروف ہیں۔

روسی حکام پیدل چلنے والوں کو سرحد پار نہیں کرنے دیتے جب کہ ناروے گاڑیوں کے ذریعے غیرقانونی تارکین وطن کے ملک میں داخلے کو انسانوں کی اسمگلنگ قرار دیتا ہے، اسی لیے اس سفر کا یہ آخری حصہ سائیکل پر طے کیا جاتا ہے۔

رحمان کے ساتھ یہی سفر کرنے والے 24 سالہ ہشام، جن کا تعلق تیونس سے ہے، کہتے ہیں، ’’میں نے انٹرنیٹ پر چیک کیا اور دیکھا کہ ناروے نے اپنی سرحد کھول رکھی ہے۔‘‘

ہشام کا کہنا ہے کہ اس نے روس کا 15 دن کا سیاحتی ویزا حاصل کیا اور پھر ماسکو سے ٹرین کے ذریعے مرمانسک پہنچا، پھر وہاں سے ٹیکسی پر نیکِل آیا۔ یہ ایک چھوٹا سا روسی علاقہ ہے، جو ناروے کی سرحد کے قریب ہے۔ وہاں سے ناروے کی سرحد قریب 185 کلومیٹر دور ہے۔

اس علاقے میں سال کے اس موسم میں جھیلیں جم کر برف بن چکی ہیں، جب کہ یہ علاقہ پہاڑی اور جنگلاتی ہے اور برف سے آٹا ہوا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ مہاجرین اس سختیوں کو دیکھ کر اس مہم جوئی سے باز آجائیں گے۔ نقطہء انجماد سے کئی درجے نیچے کے اس علاقے کو بھی مہاجرین مغربی اور شمالی یورپی ممالک تک پہنچنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برس اس راستے کے ذریعے صرف 10 مہاجرین یورپ میں داخل ہوئے تھے، تاہم اس برس یہ تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے۔

ہشام کا کہنا ہے کہ منفی 15 ڈگری درجہء حرارت اور ہر جانب برف ہی برف تھی اور ایسے میں وہ ادھر ادھر چھلانگیں لگا کر اور دوڑ کر اپنے وجود کو گرم رکھنے کے لیے کوشاں رہے۔