1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی ججوں کی بحالی کا انتظار اور مصالحتی حل پرآئینی ماہرین کے تحفظات

پاکستان میں تمام معزول ججوں کی 12 مئی کے روز بحالی کے سیاسی اعلان کے بعد سماجی، عوامی اور آئینی حلقوں میں مختلف طرح کی بے یقینی اور شبہات بھی پائے جاتے ہیں اور بہت سے حلقے خاصے پر امید بھی ہیں۔

default

بارہ مئی سے پہلے صدر مشرف کی طرف سے اقدامات کا امکان

پاکستانی سپریم کورٹ کے ایک سابق جج، جسٹس وجیہہ الدین احمد کے مطابق حکومت نے معزول ججوں کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے PCO کے تحت حلف اٹھانے والے موجودہ ججوں کوبھی ان کے عہدوں پر فائز رہنے دینے کا جو فیصلہ کیا ہے، اس پر اپنی بحالی کے منتظر کئی جج صاحبان واضح طور پر ذہنی تحفظات کا شکار ہیں۔ انہوں نے اپنے ان خیالات کا اظہار کراچی میں ڈوئچے ویلے کے لئے رفعت سعید کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا۔

Protestierende Anwälte in Islamabad, Pakistan

ججوں کی بحالی کے لئے کوششوں میں وکلاء کا کردار مرکزی اہمیت کا حامل رہا

ادھر مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے مابین طے پانے والے حتمی اتفاق رائےاور معزول ججوں کی 12 مئی کے روز پارلیمانی قرارداد کے ذریعے بحالی کے اعلان کے بعد وکلاء کی ملکی تنظیم پاکستان بار کونسل نے ہفتہ کے روز اپنی ایک قراردادمیں کہا کہ بحالی کے بعد سپریم کورٹ میں گذشتہ برس تین نومبر کے بعد اپنے عہدوں کا حلف اٹھانے والے ججوں کو شامل نہیں ہونا چاہیے۔

اسلام آباد میں پاکستان بار کونسل کے ایک اجلاس کے بعد اس تنظیم کے وائس چیئرمین سید الرحمٰن نے کہاکہ بار کونسلPCO کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو اصل جج نہیں مانتی اور یہی بات اس کونسل کی ہفتہ کے روز منعقدہ اجلاس میں منظور کی گئی ایک قرارداد میں بھی کہی گئی ہے۔

بار کونسل کے اجلاس میں اس بارے میں واضح عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ معزول ججوں کی بحالی کا جو فیصلہ کیا گیا ہے، اس پر عمل درآمد کا ایک پہلو یہ بھی ہوگا کہ معزولی کے بعد بحال ہونے والے جج پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے ساتھ بیٹھنے پر مجبور ہوں گے۔