1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی ترقیاتی منصوبے، آئی ایم ایف کی شرائط کی نذر

سیلاب سے تباہ حال پاکستان معاشی مشکلات سے نکلنے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط پوری کرنے کے لیے اپنے ترقیاتی اخراجات میں نصف کے قریب کمی لانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

default

خبررساں ادارے روئٹرز نے باوثوق حکومتی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ پاکستانی حکومت مالیاتی سال 2010-11 کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے لیے مختص 150 بلین روپے میں 46 فیصد کمی لارہی ہے۔ اس حکومتی عہدے دار کا کہنا ہے، ’اخراجات میں کمی لانے کے لیے ہمیں پی ایس ڈی پی میں کمی لانا پڑے گی، خصوصاﹰ سیلاب کے بعد کی معاشی صورتحال میں۔’

آئی ایم ایف نے سال 2008ء میں پاکستان کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کو سہارا دینے کے لیے 11 بلین ڈالر کا قرضہ منظور کیا تھا۔ اس منظور شدہ قرضے میں سے تقریباﹰ چار بلین ڈالر ابھی پاکستان کو ملنا باقی ہیں، جس کے لیے آئی ایم ایف کی شرط ہے کہ بجٹ خسارہ کم کیا جائے۔ آمدنی میں خاطر خواہ اضافے میں ناکامی کے بعد اخراجات میں کمی کی کوششوں میں بھی ناکامی پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے تعلقات میں مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ حالیہ قرضے کے علاوہ مستقبل کے لیے کسی امدادی قرضے کے حصول کے لیے بھی پاکستان کی جانب سے طے شدہ اصلاحات نہایت اہم ہیں۔

آئی ایم ایف کی ہدایات پر پاکستان نے رواں مالی سال کے دوران اپنے خسارے میں قومی پیداوار کے چار فیصد تک کمی لانی تھی، تاہم سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر دونوں نے اس خسارے میں کمی کی حد 4.7 فیصد مقرر کی تھی۔

اس نظرثانی شدہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے آئی ایم ایف نے پاکستان کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے محصولات میں اضافہ کرے، جس میں ناکامی کے بعد ترقیاتی اخراجات میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے باعث ملک کو مجموعی طور 9.7 بلین ڈالر کا نقصان پہنچا ہے، جس میں سڑکوں اور پلوں سمیت بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا شدید نقصان بھی شامل ہے۔ حالیہ کمی کے فیصلے سے تباہ شدہ سڑکوں، پلوں، ڈیموں اور دیگر بنیادی ضروریات پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی آئے گی۔

Pakistan Flut Katastrophe 2010 Flash-Galerie

پاکستان میں سیلاب سے بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا

اقتصادی ماہرین کے مطابق ایسے اخراجات ملکی معاشی صورتحال میں بہتری کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔

اسلام آباد میں قائمNUST بزنس سکول کے ڈائریکٹر جنرل اشفاق حسن خان کا مذکورہ کمی کے حوالے سے کہنا ہے، ’PSDP میں کمی کا مطلب ہے کہ ہم مستقبل کی نسلوں کے لیے کوئی اثاثے نہیں بنارہے، جس کے باعث انہیں ترقی کرنے اور آگے بڑھنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔’

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس