1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستانی تارک وطن ملک بدری کے بعد دوبارہ جرمنی پہنچ گیا

پاکستانی تارک وطن ظفر اقبال کو دسمبر میں جرمنی سے ملک بدر کر کے اٹلی بھیج دیا گیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اس نے اٹلی کے ذریعے یورپی یونین کی حدود میں داخل ہوا تھا، مگر وہ غیرقانونی طور پر دوبارہ جرمنی پہنچ گیا۔

غیرقانونی طور پر جرمنی میں مقیم پاکستانی تارک وطن اقبال کو امید ہے کہ اس مرتبہ وہ یہاں پیر جما لے گا، مگر یہ خوف بھی ہے کہ اسے واپس بھیجا جا سکتا ہے۔

پہلی مرتبہ جب ظفر اقبال نے جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی تب اس کو ایک تربیتی پروگرام میں شامل کیا گیا تھا، مگر وقت زیادہ نہیں گزرا تھا کہ ایک دن علی الصبح قریب چار بجے چھ پولیس اہلکار اس کے دروازے کے آگے کھڑے تھے۔ گزشتہ برس دسمبر کے مہینے میں جب پولیس زیریں سیکسینی کے علاقے لؤنے بُرگر ہائڈے میں اسے ملک بدر کرنے کی غرض سے پہچنی تب اسے یہ تک معلوم نہ تھا کہ اسے کہاں بھیجا جا رہا ہے، نہ ہی اسے سامان باندھنے دیا گیا، نہ پیسے اٹھانے دیے گئے، اسے سوتے سے اٹھایا گیا اور ایئرپورٹ پہنچا دیا گیا۔ اسے یہ تک نہ بتایا گیا کہ اس کی ملک بدری کی وجہ کیا ہے۔ جب اسے جہاز میں بٹھایا گیا تب اسے معلوم پڑا کہ اس کی اگلی منزل اٹلی کا شہر میلان ہے۔

اٹلی وہ پہلا یورپی ملک تھا، جہاں سے ظفر اقبال یورپی یونین کی حدود میں داخل ہوا تھا اور یورپی یونین کے ڈبلن معاہدے کے تحت مہاجرین صرف اسی یورپی ملک میں سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرا سکتے ہیں جس کے ذریعے وہ یورپی یونین کی حدود میں داخل ہوئے تھے۔ انہیں وہیں رہنا ہوتا ہے اور ان کی درخواست پر فیصلہ بھی اسی ملک میں ہوتا ہے۔

ظفر اقبال کا سفر بھی بہت سے دیگر تارکین وطن کی طرح بے انتہا کٹھن تھا۔ خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اقبال پاکستان سے ایک پرواز کے ذریعے سب سے پہلے لیبیا پہنچا اور پھر اس نے بحیرہ روم کے سمندری راستوں کے ذریعے اطالوی جزائر کا رخ کیا۔

ظفر اقبال کے مطابق اٹلی میں مہاجرین اور تارکین وطن کی حالت دگرگوں ہے اور ایک افراتفری مچی ہوئی ہے۔ اقبال کا کہنا ہے کہ وہ اس مرکز میں اپنی درخواست کے حوالے سے معلومات کے لیے تین مرتبہ گیا، مگر جواب ندارد۔ 36 سالہ ظفر اقبال نے بتایا، ’’ہمیں مویشیوں کے ایک فارم میں رکھا گیا تھا۔ یہاں ہمیں مویشیوں کے ساتھ رہنا پڑتا تھا۔ دن میں ایک بار روٹی دی جاتی تھی اور ایک بار سوپ۔ ہمیں ادویات بھی خود خریدنا پڑتی تھیں۔‘‘

اسی صورت حال سے تنگ آ کر وہ اٹلی سے بھاگ کھڑا ہوا۔ اب وہ دوسری مرتبہ جرمنی میں ہے، مگر چھپ کر زندگی گزار رہا ہے۔

ڈی پی اے کے مطابق اس معاملے سے ڈبلن معاہدے میں پائے جانے والے سقم بھی دیکھے جا سکتے ہیں، کیوں کہ یہ معاہدہ سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کو ایک سے زائد مقام پر درخواست دینے سے روکنے کے لیے وضع کیا گیا تھا۔ مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ضوابط عملی دکھائے نہیں دیتے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ظفر اقبال کے معاملے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جانے کتنے ایسے تارکین وطن چھپ کر جرمنی میں رہ رہے ہیں۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق ایسے بغیر دستاویزات جرمنی میں رہنے والے تارکین وطن کی تعداد ایک لاکھ اسی ہزار تا پانچ لاکھ بیس ہزار تک ہو سکتی ہے۔