1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پاکستانی تارکین وطن کی واپسی، یورپی یونین کی مشترکہ کارروائی

یورپی یونین کے رکن ممالک نے ایک مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے چھیاسٹھ پاکستانی تارکین وطن کو ملک بدر کر کے واپس پاکستان بھیج دیا ہے۔ ان پاکستانی شہریوں نے یونین کے مختلف رکن ممالک میں پناہ کی درخواستیں دے رکھی تھیں۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق یورپی یونین کے رکن ممالک نے ایک مشترکہ منصوبے کے تحت چھیاسٹھ پاکستانی تارکین وطن کو واپس پاکستان بھیج دیا ہے۔ پاکستانی شہریوں کو کل سات جون بروز بدھ یونانی دارالحکومت ایتھنز سے ایک جہاز میں سوار کر کے واپس پاکستان بھیج دیا گیا۔

یونان میں چند پیسوں کی خاطر جسم بیچتے پاکستانی مہاجر بچے

’ثابت کریں کہ آپ جعلی مہاجر نہیں، ورنہ آپ کا کھیل ختم‘

یونانی پولیس کے مطابق ملک بدر کیے جانے والے ان پاکستانیوں نے مختلف یورپی ممالک میں سیاسی پناہ کے حصول کے لیے درخواستیں دے رکھی تھیں۔ درخواستیں مسترد ہونے کے بعد یونین کے رکن ممالک نے ایک مشترکہ منصوبے کے تحت انہیں یونانی دارالحکومت ایتھنز پہنچا دیا تھا۔

بدھ کے روز ملک بدر کیے گئے پاکستانی شہریوں کو ایتھنز سے ایک خصوصی پرواز کے ذریعے ان کے آبائی وطن روانہ کر دیا گیا۔ یونانی حکام کے مطابق اس خصوصی پرواز میں پاکستانی تارکین وطن کے ہمراہ ڈاکٹر، انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کے نمائندے اور یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کے نگران ادارے ’فرونٹیکس‘ کے اہلکار بھی سوار تھے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے یونانی حکام کے حوالے سے یہ بھی بتایا ہے کہ وطن واپس بھیجے جانے والے پاکستانی تارکین وطن میں سے 17 نے یونان ہی میں سیاسی پناہ کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کر رکھی تھیں، جنہیں مسترد کر دیا گیا تھا۔

دیگر 49 پاکستانیوں نے جرمنی، آسٹریا، سویڈن، بیلجیئم، سلووینیا، اٹلی، ہنگری اور پولینڈ میں حکام کو اپنی سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائی تھیں۔ انہی سبھی ممالک نے ان پاکستانیوں کی پناہ کی درخواستیں مسترد کر دیے جانے کے بعد انہیں واپس پاکستان بھیجنے کی غرض سے یونان پہنچا دیا تھا۔

لکسمبرگ میں یورپی یونین کے دفتر شماریات یوروسٹَیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2015ء اور 2016ء کے دوران پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ سے زائد افراد نے یورپی یونین کے رکن مختلف ممالک میں سیاسی پناہ کے حصول کے لیے درخواستیں دی تھیں۔

زیادہ تر پاکستانیوں نے جرمنی اور اٹلی کا رخ کیا۔ گزشتہ برس یورپ پہنچنے والے پاکستانیوں کی تعداد میں کچھ کمی دیکھی گئی جس دوران تینتالیس ہزار سے زائد پاکستانی مختلف یورپی ممالک پہنچے جب کہ اس سے ایک سال قبل2015ء کے دوران اڑتالیس ہزار سے زائد پاکستانی زیادہ تر غیر قانونی طور پر یورپ آئے تھے۔

یورپی ممالک کے قوانین کے مطابق معاشی وجوہات کی بنا پر یورپ کا رخ کرنے والے افراد کو یورپ میں مہاجر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن (BAMF) کے اعداد و شمار کے مطابق 2016ء کے دوران جرمنی میں قریب دس ہزار پاکستانیوں کی درخواستوں پر ابتدائی فیصلے سنائے گئے۔

ان میں سے محض 353 افراد یا 3.5 فیصد کو پناہ دی گئی جب کہ باقی تمام درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔

جرمنی سے مہاجرین کی ملک بدری کا نیا قانون ہے کیا؟

جرمنی: مہاجرین کی ملک بدری کے لیے خصوصی اہلکار درکار

ویڈیو دیکھیے 03:30

درخواستیں نامنظور ہونے والے مہاجرین کو ملک بدر کیا جائے

DW.COM

Audios and videos on the topic